چشتیاں میں پٹواری پر تشدد کیس: سیاسی دباؤ کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج کر لیا،قانون کی بالادستی میں ڈی پی او بہاولنگر اور آر پی او بہاولپور کا قابل تحسین کردار

چشتیاں (نمائندہ خصوصی): چشتیاں میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے پٹواری رانا حسیب اللہ پر مبینہ تشدد کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سیاسی دباؤ کی اطلاعات کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کو قانون کی بالادستی اور میرٹ پر عمل درآمد کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق پٹواری رانا حسیب اللہ، جو موضع 34/F اور 14/G میں تعینات ہیں، نے الزام عائد کیا کہ چند روز قبل دو اشخاص، جنہوں نے اپنا تعارف مقامی ایم این اے کے پرسنل اسسٹنٹ "خالد کاہلوں” اور "سعد” کے طور پر کروایا، نے فون پر مبینہ طور پر انہیں دھمکیاں دیں، گالم گلوچ کی اور بغیر قانونی تقاضے اور تصدیق کے ایک جائیداد سے متعلق ریکارڈ جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

الزام ہے کہ انکار پر بعد ازاں 5 سے 7 مسلح افراد سرکاری دفتر میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے پٹواری کو ڈنڈوں اور سوٹوں سے مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، شدید زخمی کیا اور سرکاری ریونیو ریکارڈ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے بعد زخمی پٹواری کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

اس واقعے کے خلاف پٹوار یونین نے اسسٹنٹ کمشنر آفس کے سامنے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، سرکاری ریکارڈ کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملزمان مبینہ طور پر ایک جائیداد پر قبضے کے لیے جعلی رپورٹ تیار کروانا چاہتے تھے، جبکہ پہلے فون پر دھمکیاں دینے کے بعد غنڈے بھیج کر حملہ کروایا گیا۔

پٹوار یونین نے ڈی پی او بہاولنگر، آر پی او بہاولپور اور وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

عوامی و سماجی حلقوں نے اس بات کو سراہا ہے کہ ممکنہ سیاسی دباؤ کے باوجود بہاولنگر پولیس نے قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کی۔ خصوصاً ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران اور آر پی او بہاولپور غازی محمد صلاح الدین کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی نگرانی میں پولیس نے قانون کی بالادستی کو مقدم رکھتے ہوئے متاثرہ سرکاری ملازم کو انصاف فراہم کرنے کی جانب عملی قدم اٹھایا۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں، اگر الزامات ثابت ہوں تو تمام ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ سرکاری ملازمین اپنے فرائض بلاخوف و خطر انجام دے سکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

متعلقہ خبریں