سینیٹ کمیٹی کامنجمند جھیلوں کے پگھلنے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات پر زور

پاکستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز، 3 ہزار سے زیادہ جھیلیں موجود، 33 جھیلیں خطرناک قرار

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے گلیشیئر جھیلوں کے اچانک پھٹنے (GLOF) کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مقررہ مدت کے اندر اقدامات کرنے پر زور دیتے ہوئے قابل اعتماد گلیشیئر ڈیٹا، مؤثر ابتدائی وارننگ سسٹمز اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں 13,032 گلیشیئرز اور 3,000 سے زائد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 33 جھیلوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور ان کے اچانک پھٹنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں ماضی میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے تقریباً 131 واقعات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، جبکہ کسی بڑے GLOF واقعے کی صورت میں گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں تقریباً 71 لاکھ افراد خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کو مختلف پہاڑی سلسلوں کے الگ الگ جائزوں پر انحصار کرنے کے بجائے تمام گلیشیئرز اور گلیشیئر جھیلوں کی جامع نگرانی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور سکڑنے کی موجودہ رفتار کے بارے میں تازہ ترین اور درست اعداد و شمار کہاں ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سپارکو اور خیبرپختونخوا حکومت کی مشترکہ تحقیق کے مطابق صوبے میں 24 گلیشیئر جھیلوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے پانچ کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں حفاظتی پشتے اور خودکار نگرانی کے نظام نصب کیے گئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ موسمیاتی واقعات کے باعث 2026 کے دوران 535 مکانات اور 31 پل متاثر ہوئے ہیں۔

کمیٹی کو UNDP کے تعاون سے 2011 سے 2024 تک جاری رہنے والے GLOF-I اور GLOF-II منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ شیری رحمان نے کہا کہ ان منصوبوں کا جغرافیائی دائرہ اب بھی محدود ہے اور سپارکو، این ڈی ایم اے، محکمہ موسمیات اور صوبائی اداروں کے درمیان مزید مؤثر رابطے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ GLOF کا معاملہ صرف قدرتی آفات سے نمٹنے تک محدود نہیں بلکہ یہ موسمیاتی فنانسنگ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ دونوں سے متعلق ہے، اس لیے اس کے لیے مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2017 سے اب تک 34 ابتدائی وارننگ سسٹمز فراہم کیے جاچکے ہیں، جبکہ مزید 284 سسٹمز آئندہ چھ ماہ میں نصب کیے جانے کی توقع ہے۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے بتایا کہ بعض علاقوں میں مواصلاتی مسائل کے باعث سسٹمز کی تنصیب متاثر ہوئی، تاہم ضرورت کے مطابق سیٹلائٹ پیکیجز فراہم کیے گئے ہیں۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ابتدائی وارننگ سسٹمز کا خصوصی آڈٹ جاری ہے۔

کمیٹی نے متحدہ گلیشیئر انوینٹری، سیٹلائٹ اور ڈرون کے ذریعے نگرانی، مصنوعی ذہانت کے استعمال، کمیونٹی پر مبنی وارننگ سسٹمز اور بہتر مالی وسائل کی فراہمی کی سفارش کی۔ اجلاس میں جنگلات کی کٹائی اور جنگلات کی تباہی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔

شیری رحمان نے گزشتہ 15 برس کے دوران لکڑی سے متعلق سرگرمیوں اور جنگلات کے نقصان کا آڈٹ کرانے پر زور دیا۔ حکام نے بتایا کہ گرین پاکستان پروگرام کے جنگلات سے متعلق حصے نے 2019 سے 2025 کے دوران اپنے مجموعی ہدف کا 54 فیصد حاصل کیا۔

قائمہ کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (پلاسٹک بک کورز پر پابندی) ایکٹ 2026 پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔ شیری رحمان نے قانون نافذ ہونے کے باوجود پلاسٹک کے کتابی کورز کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سے قانون منظور ہونے کے بعد اس پر عملدرآمد اور قانون کی پابندی یقینی بنانا ضروری ہے۔

کمیٹی نے پلاسٹک بک کورز سے متعلق قانون پر مؤثر عملدرآمد، پلاسٹک کے فضلے اور اس کے باعث نالوں کی بندش اور شہری آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اداروں کے درمیان بہتر رابطے پر زور دیا۔

اجلاس میں سینیٹرز سید وقار مہدی، سرمد علی، خالدہ اطیب اور بشریٰ انجم بٹ نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں