جنوبی کوریا میں مقامی حکومتوں کا نظام
تحریر: ڈاکٹرمحمد بلال ظفر
مقامی خود اختیاری اور جمہوری حکمرانی کا قابل تقلید ماڈل
جنوبی کوریا کو عموماً تیز رفتار معاشی ترقی، جدید شہری انتظام اور مضبوط ریاستی اداروں کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی ترقی میں مقامی حکومتوں کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ ملک کا مقامی حکومت کا نظام اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ کس طرح ایک نسبتاً مرکزی انتظامی ڈھانچے سے بتدریج ایک ایسے نظام کی طرف پیش رفت کی جا سکتی ہے جس میں مقامی آبادی اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتی ہے، مقامی کونسلیں بجٹ اور پالیسی معاملات پر فیصلہ سازی کرتی ہیں اور مقامی حکومتیں شہریوں کی روزمرہ ضروریات سے متعلق متعدد خدمات انجام دیتی ہیں۔
تاریخی پس منظر
جنوبی کوریا میں مقامی انتظامیہ کی جڑیں جدید جمہوری مقامی حکومت سے کہیں پہلے تک جاتی ہیں۔ جوزون دور میں حکومت بنیادی طور پر مرکزی نوعیت کی تھی اور مختلف علاقوں میں سرکاری عہدیدار مرکزی شاہی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کیے جاتے تھے۔ تاہم، بعض محدود مقامی نمائندہ ادارے بھی موجود تھے، جن میں مقامی معززین پر مشتمل مشاورتی ادارے اور دیہی سطح کی انجمنیں شامل تھیں۔ یہ ادارے جدید معنوں میں مقامی حکومت یا منتخب مقامی کونسلوں کے برابر نہیں تھے۔ 1949میں Local Autonomy Act کے نفاذ کے ساتھ مقامی خود اختیاری کے لیے باقاعدہ قانونی بنیاد قائم ہوئی۔اس قانون کے تحت مختلف درجوں کی مقامی حکومتیں تشکیل دی گئیں، تاہم ابتدا میں مقامی خود اختیاری کافی محدود تھی اور مقامی انتظامیہ پر مرکزی حکومت کا نمایاں اثر برقرار رہا۔1960 کی دہائی میں مرکزیت مزید بڑھی۔ 1961 میں مقامی کونسلیں تحلیل کر دی گئیں اور مقامی حکومت کے سربراہان کی تقرری کا نظام رائج ہوا۔ اس کے نتیجے میں کئی دہائیوں تک مقامی خود اختیاری عملاً محدود رہی۔ مقامی جمہوریت کی بحالی کا اہم مرحلہ 1988 میں Local Autonomy Act میں جامع ترامیم اور پھر 1991 میں مقامی کونسلوں کی بحالی سے آیا۔ بالآخر جون 1995 میں مقامی حکومتوں کے سربراہان کے براہِ راست عوامی انتخابات کے ذریعے جنوبی کوریا میں مقامی خود اختیاری کا موجودہ نظام مکمل طور پر نافذ ہوا۔
آئینی اور قانونی بنیاد
جنوبی کوریا کے آئین کے باب VIII میں مقامی خود اختیاری کی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 117 کے تحت مقامی حکومتوں کو شہریوں کی فلاح سے متعلق امور انجام دینے، املاک کا انتظام کرنے اور قانون کے دائرے میں مقامی خود اختیاری سے متعلق ضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہے۔آرٹیکل 118 مقامی کونسلوں کے قیام کو لازمی قرار دیتا ہے جبکہ مقامی حکومتوں کی تنظیم، اختیارات، کونسل ارکان کے انتخاب اور مقامی حکومت کے سربراہان کے انتخاب سے متعلق معاملات قانون کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔ Local Autonomy Actاس پورے نظام کا بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ قانون کا مقصد مقامی انتظامیہ کو جمہوری اور مؤثر انداز میں چلانا، متوازن علاقائی ترقی کو فروغ دینا اور قومی سطح پر جمہوری ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔
دو سطحی مقامی حکومت کا ڈھانچہ
جنوبی کوریا میں عمومی طور پر دو سطحی مقامی حکومت کا نظام رائج ہے:
- علاقائی یا اعلیٰ سطح کی مقامی حکومتیں
- بنیادی یا نچلی سطح کی مقامی حکومتیں
ملک میں 17 علاقائی اور 226 بنیادی مقامی حکومتیں موجود ہیں۔ علاقائی سطح پر ایک Special City (Seoul)، چھ Metropolitan Cities، ایک Special Autonomous City (Sejong)، آٹھ Provinces اور ایک Special Autonomous Province (Jeju) شامل ہیں۔ بنیادی سطح پر 75 Cities، 82 Counties اور 69Districts شامل ہیں۔سیجونگ اور جیجو کو خصوصی انتظامی حیثیت حاصل ہے اور وہاں عمومی دو سطحی ماڈل سے مختلف انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔
مقامی کونسل اور انتظامیہ
جنوبی کوریا کی مقامی حکومت کی ایک نمایاں خصوصیت مقامی کونسل اور مقامی حکومت کے سربراہ کے درمیان ادارہ جاتی تقسیمہے۔مقامی کونسل مقامی قانون سازی اور فیصلہ سازی کا ادارہ ہے۔ کونسل کے ارکان براہِ راست عوامی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور ان کی مدت چار سال ہوتی ہے۔ کونسلیں مقامی ضوابط، بجٹ اور اہم پالیسی معاملات پر غور کرتی ہیں اور بجٹ کی منظوری اور مالی حسابات کے جائزے کے ذریعے انتظامیہ پر مالی نگرانی بھی کرتی ہیں۔ دوسری جانب مقامی حکومت کا سربراہ انتظامی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ مقامی حکومت کی نمائندگی کرتا، انتظامی امور نافذ کرتا، مرکزی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریاں انجام دیتا اور ماتحت سرکاری اہلکاروں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس طرح کونسل اور انتظامیہ کے درمیان ایک ایسا نظام قائم ہوتا ہے جس میں فیصلہ سازی، نمائندگی اور انتظامی عمل کے مختلف کردار واضح رہتے ہیں۔
براہِ راست عوامی نمائندگی
جنوبی کوریا میں مقامی حکومت کے سربراہان اور مقامی کونسل کے ارکان براہِ راست عوامی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔ انتخابات بیک وقت منعقد ہوتے ہیں اور مدت چار سال ہوتی ہے۔ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے اہل شہری، جو متعلقہ علاقے میں رہائش رکھتے ہوں، ووٹ دینے کا حق رکھتے ہیں۔ مقامی جمہوریت صرف انتخابات تک محدود نہیں۔ شہریوں کو بعض حالات میں منتخب مقامی عہدیداروں کے خلاف recall کا مطالبہ کرنے اور اہم معاملات پر referendum کی درخواست کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ طریقہ کار مقامی حکومت کو شہریوں کے سامنے براہِ راست جواب دہ بنانے کے لیے اہم ادارہ جاتی ذرائع فراہم کرتا ہے۔
جنوبی کوریا کے آئین میں مقامی خود اختیاری کی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ جس کے تحت مقامی حکومتوں کو شہریوں کی فلاح سے متعلق امور انجام دینے، املاک کا انتظام کرنے اور قانون کے دائرے میں مقامی خود اختیاری سے متعلق ضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہے۔
مقامی حکومتوں کے اختیارات اور ذمہ داریاں
جنوبی کوریا میں مقامی حکومتوں کے معاملات بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں:
- خود اختیاری امور (autonomous affairs) اور
- تفویض کردہ امور (delegated affairs)
مقامی حکومتوں کو انتظامی تنظیم، مقامی ضوابط، مقامی محصولات، بجٹ، سرکاری املاک، شہری بہبود، صحت، صفائی، کچرے کے انتظام، مقامی صنعت، زراعت، شہری منصوبہ بندی، سڑکوں، پانی و نکاسیٔ آب، رہائش، ثقافت، کھیل اور دیگر متعدد شعبوں میں ذمہ داریاں حاصل ہیں:
شہری فلاح: مقامی حکومتیں شہریوں کی فلاح سے متعلق پروگرام چلاتی ہیں، سماجی بہبود کی سہولیات کا انتظام کرتی ہیں اور غریب، بزرگ، بچوں، نوجوانوں، خواتین اور معذور افراد کے لیے مختلف خدمات فراہم کرتی ہیں۔ صحت عامہ، متعدی بیماریوں سے بچاؤ، صفائی اور کچرے کے انتظام میں بھی مقامی حکومتوں کا کردار ہے۔
مقامی معاشی ترقی: زراعت، جنگلات، مویشی، ماہی گیری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، علاقائی صنعتوں اور مقامی سیاحت کے فروغ سے متعلق امور بھی مقامی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
شہری ترقی اور بنیادی سہولیات: شہری منصوبہ بندی، سڑکوں کی تعمیر و دیکھ بھال، رہائشی ماحول کی بہتری، پارکس، پانی اور سیوریج کے نظام اور دیگر عوامی سہولیات کی فراہمی مقامی حکومتوں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
اعلیٰ اور بنیادی مقامی حکومتوں کے درمیان تقسیمِ کار
جنوبی کوریا میں مختلف سطحوں کی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم بنیادی طور پر subsidiarity اور administrative efficiency کے اصولوں سے منسلک ہے۔ علاقائی حکومتیں ایسے معاملات پر توجہ دیتی ہیں جن کے لیے پورے صوبے یا میٹروپولیٹن علاقے میں ہم آہنگی ضروری ہو، مثلاً علاقائی شہری منصوبہ بندی، بڑے راستے، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، ماحولیاتی نگرانی، صنعتی فضلے کا انتظام اور بنیادی مقامی حکومتوں کی معاونت۔ اس کے برعکس بنیادی مقامی حکومتیں شہریوں کی روزمرہ زندگی سے زیادہ قریب خدمات انجام دیتی ہیں، جن میں مقامی سڑکیں، پانی و سیوریج، عوامی رہائش، شہری پارکس، سماجی بہبود اور چھوٹے پیمانے کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ یہ تقسیم اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ جو خدمات مقامی سطح پر مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکتی ہیں، انہیں زیادہ قریب کی حکومت کے ذریعے انجام دیا جائے۔
مالیاتی نظام: خود اختیاری اور مرکز پر انحصار
جنوبی کوریا کے مقامی حکومت کے نظام کا ایک اہم پہلو مالیاتی عدم توازن ہے۔ مقامی حکومتیں مجموعی سرکاری اخراجات کا تقریباً نصف انجام دیتی ہیں، لیکن مجموعی سرکاری آمدنی کا صرف تقریباً پانچواں حصہ خود پیدا کرتی ہیں۔ اس فرق کو مرکزی حکومت کی جانب سے مختلف مالیاتی منتقلیوں ۔کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ مرکزی اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منتقلی کے اہم ذرائع درج ذیل ہیں:
- مقامی ٹیکس
- مقامی تعلیمی گرانٹ
- قومی سبسڈیز
- تعلیم کے لیے میٹروپولیٹن اور صوبائی حکومتوں کی فنڈنگ
یہ صورتحال ایک اہم سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ اگرچہ مقامی حکومتوں کو قانونی اور سیاسی طور پر خود اختیاری حاصل ہے، لیکن ان کے مالی وسائل کا بڑا حصہ مرکزی حکومت سے منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے جنوبی کوریا کے مقامی حکومت کے نظام میں سیاسی و انتظامی خود اختیاری اور مالیاتی انحصار ایک ساتھ موجود ہیں۔
موجودہ مالیاتی چیلنجز
مرکزی حکومت سے مالی منتقلی کے نظام کے باوجود بعض عملی مسائل برقرار ہیں۔ قومی سبسڈی کے منصوبوں میں مقامی حکومتوں کے حصے کی شرح کئی معاملات میں سالانہ بجٹ سازی کے دوران طے ہوتی ہے، جس سے درمیانی مدت کی منصوبہ بندی میں غیر یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مقامی حکومتوں کے بجٹ سازی کا دورانیہ مرکزی حکومت کے مقابلے میں نسبتاً مختصر ہوتا ہے اور مرکزی منتقلیوں کی حتمی منظوری پر انحصار مقامی بجٹ کی بروقت منظوری کو متاثر کر سکتا ہے۔ بعض مقامی حکومتوں میں بجٹ پر عمل درآمد کی شرح بھی مرکزی حکومت کے مقابلے میں کم رہی ہے، جس کے نتیجے میں غیر استعمال شدہ رقوم اور carryovers سامنے آتے ہیں۔
جنوبی کوریا میں مقامی حکومتیں شہری فلاح، بنیادی سہولیات، مقامی معاشی ترقی، شہری منصوبہ بندی، ثقافت، ماحولیات اور دیگر روزمرہ معاملات میں وسیع ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔
جنوبی کوریا کے ماڈل سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
جنوبی کوریا کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی حکومت کا مؤثر نظام صرف انتظامی اختیارات کی منتقلی سے تشکیل نہیں پاتا۔ اس کے لیے کئی ادارہ جاتی عناصر کا باہمی تعلق ضروری ہے:
- پہلا، آئینی اور قانونی تحفظ: مقامی خود اختیاری کو آئینی بنیاد حاصل ہے، جبکہ تفصیلی اختیارات قانون کے ذریعے متعین کیے جاتے ہیں۔
- دوسرا، منتخب مقامی قیادت: مقامی حکومت کے سربراہان اور کونسل ارکان براہِ راست عوام کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔
- تیسرا، مضبوط مقامی کونسل: کونسلیں مقامی ضوابط، بجٹ اور اہم پالیسی معاملات میں فیصلہ سازی اور نگرانی کا کردار ادا کرتی ہیں۔
- چوتھا، واضح تقسیمِ کار: علاقائی اور بنیادی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم مقامی ضروریات اور علاقائی سطح کی ہم آہنگی دونوں کو مدنظر رکھتی ہے۔
- پانچواں، شہری شرکت: انتخابات کے علاوہ recall اور referendum جیسے طریقہ کار شہریوں کو مقامی حکومت کے ساتھ براہِ راست رابطے کے اضافی ذرائع فراہم کرتے ہیں۔
- چھٹا، مالیاتی منتقلی کا نظام: مرکزی حکومت مقامی حکومتوں کے مالی وسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے علاقائی مالیاتی تفاوت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ مقامی مالی خود اختیاری کا سوال بھی برقرار رہتا ہے۔
جنوبی کوریا کا مقامی حکومت کا نظام ایک طویل تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے۔ 1949 میں مقامی خود اختیاری کے قانونی آغاز، 1960 کی دہائی میں شدید مرکزیت، 1991 میں مقامی کونسلوں کی بحالی اور 1995 میں براہِ راست منتخب مقامی قیادت کے نفاذ نے موجودہ نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ آج جنوبی کوریا میں مقامی حکومتیں شہری فلاح، بنیادی سہولیات، مقامی معاشی ترقی، شہری منصوبہ بندی، ثقافت، ماحولیات اور دیگر روزمرہ معاملات میں وسیع ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔ ساتھ ہی، مرکزی حکومت اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالیاتی تعلق اس نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس تجربے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ مقامی جمہوریت، منتخب نمائندگی، مقامی انتظامی صلاحیت، واضح اختیارات اور مالیاتی نظام کو ایک مربوط حکومتی ڈھانچے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، اس نظام میں بھی مرکز اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالیاتی تعلق، بجٹ پر عمل درآمد اور مقامی خود اختیاری کی عملی حدود جیسے مسائل مسلسل پالیسی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں جنوبی کوریا کا ماڈل مقامی حکومت کو محض انتظامی اکائی کے بجائے شہریوں کے قریب جمہوری حکمرانی، عوامی خدمات اور علاقائی ترقی کے ادارے کے طور پر سمجھنے کے لیے ایک اہم مطالعہ فراہم کرتا ہے۔