مقامی حکومتیں ناگزیر ہیں، سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کرائیں: اعتزاز احسن
لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان اعزاز احسن نے کہا ہے کہ ملک میں مؤثر طرز حکمرانی کے لیے بااختیار مقامی حکومتیں
ناگزیر ہیں، جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا چاہیے۔
اعزاز احسن نے ملک کے موجودہ نظام حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 اگست 1947 کے بعد ملک کے طاقت کے ڈھانچے میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی، صرف برطانوی پرچم کی جگہ پاکستان کا قومی پرچم آ گیا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں قائم کیا گیا وسیع انتظامی ڈھانچہ آج بھی بڑی حد تک اسی انداز میں کام کررہا ہے، جبکہ ملک تقریباً 150 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتیں بھی مسلسل بلدیاتی انتخابات کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ مقامی حکومتیں عوام تک اختیارات اور بنیادی سہولیات پہنچانے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کرائیں اور حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری اختیار کریں، بجائے اس کے کہ سرکاری وسائل غیر ضروری اخراجات پر خرچ کیے جائیں۔
سیمینار کی میزبانی اور نظامت بشریٰ منظور منیکا اور احمد گھمن نے کی، جبکہ لیاقت بلوچ، مجیب الرحمٰن شامی، احمد اویس، امیر بہادر ہوتی، بیرسٹر عامر حسن، زاہد اسلام اور منیزے جہانگیر سمیت دیگر مقررین نے بھی اظہار خیال کیا۔
صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ اب بھی ایک ایسا نظام حکمرانی ہے جس میں اختیارات کا ارتکاز موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنے کے سنگین نتائج سامنے آچکے ہیں، تاہم ضلعی حکومتوں کا نظام بھی کئی ادوار میں حقیقی طور پر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے فوجی حکمرانوں کی جانب سے پارلیمان کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا مقصد صرف انتظامی ڈھانچہ بنانا نہیں بلکہ عوام کو فیصلہ سازی میں شریک کرنا اور انہیں اپنے علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اختیار دینا ہونا چاہیے۔
آئینی اور سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے شاہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ 1973 کا آئین ملک کا حقیقی سماجی معاہدہ ہے۔ تاہم ان کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد ہونے والی قانون سازی بھی شکوک و شبہات کی زد میں رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پارلیمان کو اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں کام کرنے کا تاثر موجود ہے۔
دیگر مقررین نے ملک میں آزادی اظہار کے لیے محدود ہوتے ہوئے ماحول اور طویل مدتی قومی پالیسیوں کے فقدان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں سے نکلنے کے لیے بامعنی سیاسی مکالمہ، مضبوط جمہوری ادارے اور سویلین بالادستی ضروری ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں مزید صوبوں کے قیام کی بحث اپنی جگہ اہم ہوسکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ موجودہ صوبوں کے اندر سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات حقیقی طور پر مقامی سطح تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق مضبوط اور بااختیار بلدیاتی ادارے ہی عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر شہری خدمات فراہم کرنے اور مقامی مسائل کے فوری حل میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔