تنخواہ کی عدم ادائیگی پر خودسوزی کرنے والا ستھرا پنجاب پروگرام کا ملازم دم توڑ گیا
لاہور: ستھرا پنجاب پروگرام کے ایک ملازم، جس نے مبینہ طور پر مکمل تنخواہ نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دو روز قبل گوجرانوالہ میں خود کو آگ لگا لی تھی، دورانِ علاج لاہور میں دم توڑ گیا۔ متوفی کی شناخت ذیشان کے نام سے ہوئی ہے، جس نے مبینہ طور پر کنٹریکٹر کی جانب سے پوری تنخواہ ادا نہ کیے جانے پر ستھرا پنجاب پروگرام کے دفتر کے باہر انتہائی اقدام کیا تھا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ذیشان دفتر میں شکایت درج کرانے کے بعد باہر آیا، راہداری میں اپنے اوپر پٹرول چھڑکا اور خود کو آگ لگا لی۔ موقع پر موجود دیگر ملازمین نے فوری طور پر آگ بجھانے کی کوشش کی اور انہیں شدید جھلسی ہوئی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ کنٹریکٹر مبینہ طور پر ملازمین کی 21 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ میں غیرقانونی کٹوتی کر رہا تھا، جبکہ اس حوالے سے کئی شکایات بھی سامنے آچکی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ذیشان نے شکایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے بچے بھوکے ہیں اور اسے حکومت کی مقررہ مکمل تنخواہ ادا کی جائے۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے اعلیٰ حکام کو تحریری شکایت کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا، تاہم مبینہ طور پر انہیں دھمکیاں دی گئیں اور ملازمت سے نکالنے کی بات بھی کی گئی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مزدوروں کے حقوق، کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں اور نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔