ورلڈ بینک کا کراچی کے آبی منصوبوں پر سخت اظہارِ تشویش، تاخیر، ناقص نگرانی اور اصلاحات کی سست روی پر سنگین سوالات

کراچی: ورلڈ بینک نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (فیز 1 اور فیز 2) پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خریداری کے عمل میں تاخیر، کمزور منصوبہ بندی، ماحولیاتی و سماجی تقاضوں کی خلاف ورزیاں، متاثرہ افراد کو معاوضوں کی عدم ادائیگی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں سست روی منصوبوں کی کامیابی اور کراچی میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے اہداف کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

ورلڈ بینک نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو ارسال کیے گئے ایک تفصیلی مراسلے میں دونوں منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

مراسلے کے مطابق KWSSIP-1، جو 30 جون 2026 کو مکمل ہونا ہے، کے کئی اہم کام تاحال نامکمل ہیں۔ ورلڈ بینک نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دو غیر رسمی آبادیوں میں منصوبے سے متاثرہ افراد کو اب تک مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، جبکہ منظور شدہ آبادکاری منصوبے پر بھی مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب KWSSIP-2 کی کارکردگی کو مزید تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ منصوبے کی منظوری کو تقریباً 16 ماہ گزرنے کے باوجود مجموعی فنڈنگ کا صرف ایک فیصد (3.16 ملین امریکی ڈالر) خرچ ہو سکا ہے، جو منصوبے پر انتہائی سست رفتار عمل درآمد کی نشاندہی کرتا ہے۔

ورلڈ بینک نے کے فور آگمنٹیشن منصوبے، پراجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنسی، نگرانی، ڈیزائن ریویو اور جی آئی ایس سے متعلق خریداری کے عمل میں غیر معمولی تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ بینک کے مطابق بعض کنسلٹنسی معاہدوں کو دوبارہ ٹینڈر کرنے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کے فور آگمنٹیشن کامن کوریڈور پر تعمیراتی سرگرمیاں متاثرہ افراد کو معاوضے کی مکمل ادائیگی سے قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں، جو ورلڈ بینک کے ماحولیاتی و سماجی تحفظ کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بینک نے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور متاثرہ افراد کی آبادکاری کے منصوبے کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ورلڈ بینک نے منصوبے میں ماحولیاتی نگرانی، شکایات کے ازالے کے نظام، آزاد مانیٹرنگ، تکنیکی معیار اور حفاظتی اقدامات میں بھی متعدد خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ میں پائپ لائنوں کے معیار، حفاظتی کوٹنگ، جوائنٹس کی مضبوطی، گیس پائپ لائن کی منتقلی اور گلشنِ اقبال فلائی اوور کے قریب ہونے والے نقصانات کی آزادانہ جانچ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ادارہ جاتی سطح پر بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی استعداد، گورننس، بورڈ کی نمائندگی، عملے کی کمی اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن نظام کی عدم موجودگی کو منصوبے کی بڑی کمزوریاں قرار دیا گیا ہے۔

ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارہ جاتی اصلاحات میں فوری پیش رفت نہ ہوئی تو اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود منصوبے کے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے، جیسا کہ پہلے مرحلے میں بھی اصلاحات مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

بینک نے جون سے اگست 2026 تک مختلف مراحل پر مشتمل ایک جامع ایکشن پلان جاری کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو معاوضوں کی ادائیگی، خریداری کے عمل میں تیزی، تکنیکی معیار کی تصدیق، ماحولیاتی و سماجی تقاضوں کی مکمل پابندی، عملے کی بھرتی، مانیٹرنگ سسٹم کی تکمیل اور ادارہ جاتی اصلاحات پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کے پانی کے شعبے کا یہ فلیگ شپ منصوبہ اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات شہریوں کو بہتر پانی کی فراہمی اور شہری خدمات پر بھی مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں