تقسیم اور رکاوٹیں پاکستان کی 5 کروڑ سے زائد جین زی کو اسٹیٹس کو چیلنج کرنے سے روک رہی ہیں۔

کراچی: ایک سیمینار کے مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 5 کروڑ جین زی (Gen Z) آبادی میں ملک کے موجودہ نظام اور اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، تاہم مختلف سماجی تقسیم اور دیگر رکاوٹیں نوجوان نسل کو مؤثر تبدیلی لانے سے روک رہی ہیں۔

کراچی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (PIIA) کے زیر اہتمام ’’دی رائز آف جین زی اِن ساؤتھ ایشیا‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا، جس میں ماہرین اور محققین نے نوجوان نسل کے سیاسی کردار، احتجاجی تحریکوں، ٹیکنالوجی اور سماجی تبدیلی پر اظہار خیال کیا۔

PIIA کی چیئرپرسن ڈاکٹر مسعودہ حسن نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ جین زی میں وہ افراد شامل ہیں جو 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہوئے اور یہ پہلی نسل ہے جو انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ماحول میں پروان چڑھی۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت میں جین زی کی آبادی سب سے زیادہ ہے، جہاں اس نسل کے افراد کی تعداد تقریباً 47 کروڑ ہے اور وہ بھارت کی افرادی قوت کا تقریباً 25 فیصد ہیں۔

ڈاکٹر مسعودہ حسن نے جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کی حالیہ تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے بعض ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی تحریکوں نے سیاسی نظام پر اثر ڈالا ہے۔

سابق ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، جامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد ہے، تاہم بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی نوجوان سیاسی تبدیلی کے عمل میں وہ مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی کے امکانات اب بھی موجود ہیں، تاہم تقریباً 5 کروڑ جین زی نوجوان طبقاتی، فرقہ وارانہ اور دیگر سماجی بنیادوں پر تقسیم ہیں، جس کے باعث وہ اجتماعی قیادت اور موجودہ نظام کو چیلنج کرنے کی صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کرپاتے۔

ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ میڈیا کی آزادی میں رکاوٹیں بھی سیاسی اور سماجی گھٹن میں اضافہ کرتی ہیں، جو ایک طرف تبدیلی کی ضرورت کو بڑھاتی ہیں لیکن دوسری جانب نوجوانوں کے لیے منظم سیاسی کردار ادا کرنا مشکل بناتی ہیں۔

کالم نگار اور محقق ندیم فاروق پراچہ نے کہا کہ جین زی کے بارے میں پہلے ہی ایک مخصوص شناخت اور ’’اسکرپٹ‘‘ تشکیل دے دیا گیا ہے، جس کے باعث نوجوان اپنی شناخت اور مستقبل کے حوالے سے بے چینی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں نوجوانوں کی کئی تحریکیں غیر متوقع طور پر ابھریں اور سیاسی تبدیلی کا سبب بنیں، تاہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض بڑی تبدیلیاں انقلاب کے بجائے فوجی مداخلت یا اقتدار کی منتقلی کے نتیجے میں سامنے آئیں۔

پراچہ کے مطابق حالیہ برسوں میں افقی نوعیت کی تحریکیں زیادہ نظر آتی ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلی کے لیے مضبوط قیادت اور عمودی تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔

آئی بی اے کراچی کے ڈاکٹر سجاد احمد نے جنرل زی کے سیاسی عروج، احتجاج، سیاسی تبدیلی اور استحکام کی جدوجہد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل نے بعض جنوبی ایشیائی ممالک میں مثبت تبدیلی میں کردار ادا کیا، تاہم بعض مواقع پر وہ تباہ کن سیاست کا بھی حصہ بنی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ نے سیاسی متحرک کاری کی ایک نئی شکل پیدا کردی ہے، جس کی طاقت مقامی نوعیت کی شکایات کو تیزی سے بڑے پیمانے کی عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت میں ہے۔

PIIA کے محقق سید احسان علی شاہ نے جین زی کو جنوبی ایشیا کی سیاست میں ڈیجیٹل قوم پرستی کے نئے معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی نے سیاسی شناختوں، قومی بیانیوں اور احتجاجی تحریکوں کی تنظیم کے طریقہ کار کو تبدیل کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جین زی کے سیاسی کردار میں ٹیکنالوجی مرکزی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور یہ نسل ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے سیاسی بیانیوں اور اجتماعی عمل کی نئی شکلیں تشکیل دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں