7 سالہ بچے کے لرزہ خیز قتل کا معمہ حل، سفاک قاتل قریبی رشتہ دار نکلا، آلہ قتل برآمد

نوشہرہ (نمائندہ خصوصی): ضلع نوشہرہ کے علاقہ مہمند آباد میرہ جلوزئی میں 7 سالہ معصوم بچے کے لرزہ خیز قتل کا معمہ پولیس نے حل کرتے ہوئے مقتول کے قریبی رشتہ دار کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم کر لیا ہے، جبکہ اس کی نشاندہی پر آلہ قتل (چھری) بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

ضلعی پولیس سربراہ سونیا شمریز خان نے ڈی ایس پی آفس پبی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 18 جولائی 2026 کو ذاکر ولد گلاب خان، سکنہ مہمند آباد میرہ جلوزئی نے تھانہ جلوزئی میں رپورٹ درج کرائی کہ اس کا سات سالہ بھتیجا شہزاد ولد امین اللہ صبح گھر سے نکلا تھا لیکن دوپہر تک واپس نہیں آیا۔

بعد ازاں تلاش کے دوران بچے کی لاش حاجی اسلم کی اراضی سے برآمد ہوئی، جہاں اسے کسی نامعلوم شخص نے تیز دھار آلے سے ذبح کر دیا تھا۔ واقعے پر تھانہ جلوزئی میں نامعلوم ملزم یا ملزمان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ نمبر 575 درج کیا گیا۔

ڈی پی او کے مطابق واقعے کی حساسیت کے پیش نظر ایس پی انویسٹی گیشن شاہ اسد خان کی سربراہی میں خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ایس ڈی پی او پبی مقدم خان، ایس ایچ او جلوزئی جمشید خٹک، تفتیشی افسر انسپکٹر نیک زمان خان اور انچارج ٹیکنیکل اسٹاف ساجد اقبال خان شامل تھے۔

پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے، مشتبہ افراد کی پروفائلنگ کی اور متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی، جس کے نتیجے میں 18 سالہ محمد عادل ولد وحید اللہ کو حراست میں لیا گیا، جو مقتول کا قریبی رشتہ دار تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اور مقتول کا والد ایک چپل فیکٹری میں ملازم تھے۔ فیکٹری سے موبائل فون چوری ہونے کے بعد مقتول کے والد کے کہنے پر اسے ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ مزید برآں مقتول کے والد نے اس کے اہل خانہ کو بتایا کہ عادل آئس نشے کا عادی اور آوارہ ہے، جس پر گھر والوں نے اس کی سخت سرزنش کی۔ اسی رنجش اور انتقامی جذبے کے تحت ملزم نے موقع ملتے ہی بچے کو بہلا پھسلا کر سنسان مقام پر لے جا کر قتل کر دیا۔

پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

متعلقہ خبریں