کراچی: گلستانِ جوہر کی خستہ حال سڑکیں شہریوں کے لیے وبالِ جان، گڑھوں، ادھورے تعمیراتی منصوبوں اور گردوغبار نے روزمرہ سفر مشکل بنا دیا
کراچی: کراچی کے گنجان آباد اور تیزی سے ترقی کرنے والے رہائشی علاقے گلستانِ جوہر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گہرے گڑھے، جاری تعمیراتی منصوبے اور گردوغبار شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گئے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے جاری ترقیاتی کاموں کے باوجود نہ صرف مرکزی شاہراہیں بلکہ اندرونی گلیاں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں، جس کے باعث روزمرہ کا مختصر سفر بھی طویل اور تھکا دینے والا بن چکا ہے۔
گلستانِ جوہر تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والی تینوں بڑی شاہراہیں اس وقت کسی نہ کسی تعمیراتی سرگرمی یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی طویل تعمیر کے باعث پہلے ہی شدید ٹریفک دباؤ موجود ہے، جس کے باعث ہزاروں شہری متبادل راستوں کا استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ راستے بھی خراب سڑکوں اور جاری کھدائی کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ راستوں میں پہلوان گوٹھ روڈ شامل ہے، جو گلستانِ جوہر کے ہزاروں مکینوں کے لیے ایک اہم داخلی شاہراہ ہے۔ شاہراہِ فیصل اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آنے والے مسافروں کو بلاکس 7، 8، 9، 11 اور 12 تک پہنچنے کے لیے اسی سڑک کا استعمال کرنا پڑتا ہے، مگر جو سفر پہلے تقریباً دس منٹ میں مکمل ہو جاتا تھا، اب ٹریفک اور سڑک کی خراب حالت کے باعث 30 سے 40 منٹ تک کا وقت لے رہا ہے۔
حبیب یونیورسٹی سے ریس کورس روڈ تک سیوریج اور پانی کی لائنوں کی تنصیب کے لیے وسیع پیمانے پر کھدائی کی گئی ہے، جس سے سڑک کی چوڑائی کم ہو چکی ہے۔ قبرستان کے قریب سڑک اس قدر تنگ ہو گئی ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک گاڑی ہی گزر سکتی ہے، جبکہ گلستانِ جوہر تھانے سے آگے سڑک بڑے بڑے گڑھوں، ٹوٹی ہوئی سطح، کیچڑ اور جمع بارش کے پانی کے باعث انتہائی خراب حالت اختیار کر چکی ہے۔
پی ایس او پمپ کے قریب ایک حصہ تقریباً ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے، جہاں کھدائی، گہرے گڑھوں اور کھڑے پانی نے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر کر دی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی میں چھپے گڑھے حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔ کئی شہریوں نے شکایت کی کہ رات کے وقت پانی میں چھپے گڑھوں کی وجہ سے موٹر سائیکلیں اچانک بے قابو ہو جاتی ہیں، جس سے قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
جوہر چورنگی روڈ بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ منور چورنگی انڈر پاس کی تعمیر کے باعث دارالصحت اسپتال سے افنان ڈوپلیکس تک سڑک جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کو انتہائی سست رفتاری سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود شہری مجبوری کے تحت یہی راستہ اختیار کرتے ہیں کیونکہ یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ پہلے ہی غیر معمولی ہے۔
مرکزی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ گلستانِ جوہر کے بلاک 1، 2، 3 اور 3-A کی اندرونی سڑکیں بھی بری طرح متاثر ہیں۔ ابراہیم اسٹریٹ، ہل ٹاپ اسٹریٹ، صدیقی اسٹریٹ، اسٹیپ ہل ڈرائیو اور انوارِ عطار مسجد کے اطراف کی گلیاں گڑھوں اور ناہموار سڑکوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جس کے باعث مختصر فاصلے کا سفر بھی دشوار ہو گیا ہے۔
سڑکوں کی خراب حالت کے ساتھ ساتھ جاری تعمیراتی سرگرمیوں سے اٹھنے والی گرد اور مٹی نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ مسافروں کو چند ہی لمحوں میں گرد سے اَٹ جانا پڑتا ہے، جبکہ سانس لینے میں دشواری اور ماحولیاتی آلودگی کے مسائل بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کیا گیا ہے، لیکن اس کی رفتار انتہائی سست ہے۔ انہوں نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلوان گوٹھ روڈ، جوہر چورنگی، منور چورنگی، کمران چورنگی اور دیگر متاثرہ شاہراہوں پر جاری ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ہزاروں شہریوں کو روزانہ درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔
شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال ہو، سڑکوں کی حالت بہتر بنے اور شہری محفوظ اور آرام دہ سفر کر سکیں۔