پاکستان میں مقامی ویکسین سازی تیز کرنے کی ہدایت، صحت کا تحفظ خود انحصاری سے ممکن ہے، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سمیت متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں مقامی ویکسین سازی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کیا جائے تاکہ ملک صحت کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کر سکے اور ویکسین کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

یہ ہدایات مقامی ویکسین سازی کے منصوبے اور پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی گئیں۔

اجلاس میں وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے چیف ایگزیکٹو، ڈریپ کے سی ای او ڈاکٹر عبیداللہ ملک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اے ڈی بی کے نمائندوں نے اجلاس کو مقامی ویکسین سازی کے منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار کی استعداد بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے تمام قانونی، ریگولیٹری اور تکنیکی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مقامی ویکسین سازی کا فروغ قومی ترجیح ہے، جس سے پاکستان کی صحت کا تحفظ مضبوط ہوگا، درآمدی انحصار کم ہوگا اور جان بچانے والی ویکسینز کی پائیدار فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔

انہوں نے نرسنگ کے شعبے میں جامع اصلاحات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اور جدید نرسنگ نظام ملک کے صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں