خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی 2030 متعارف کرا دی، پیپر لیس گورننس پر زور

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا افتتاح کرتے ہوئے اسے صوبے میں جدید طرز حکمرانی، مؤثر عوامی خدمات اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن حکومت کے اس وژن کا بنیادی حصہ ہے جس کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، سرکاری اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کرنا اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپر لیس گورننس اور ڈیجیٹل پبلک ایڈمنسٹریشن کے نفاذ سے شفافیت، احتساب، انتظامی استعداد اور ادارہ جاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعلیٰ کے مطابق یہ پالیسی پاکستان میں تیار کیے گئے جامع ترین ڈیجیٹل گورننس فریم ورک میں سے ایک ہے، جو آئندہ برسوں میں خیبر پختونخوا کو جدید، مؤثر، شفاف اور شہریوں کی ضروریات پر مبنی حکمرانی کی جانب لے جانے کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے "ڈیجیٹل خیبر پختونخوا” کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (KPITB) اور دیگر شراکت دار اداروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی بین الاقوامی بہترین تجربات، جدید ٹیکنالوجی کے رجحانات اور مستقبل کی حکمرانی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وسیع مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت مرحلہ وار تمام اہم عوامی خدمات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کرے گی تاکہ شہری تیز، آسان اور سہل طریقے سے سرکاری سہولیات تک رسائی حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا ایک اہم فائدہ یہ ہوگا کہ بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے شہریوں کو معمولی کاموں کے لیے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے، بلکہ وہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات، معلومات اور سہولیات حاصل کر سکیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI)، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جدید ڈیجیٹل مہارتیں مستقبل کی معیشت کے بنیادی ستون بن چکی ہیں، اسی لیے حکومت نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے لیے سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ روزگار، فری لانسنگ، کاروباری مواقع اور جدت کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل نظام کے فروغ سے نہ صرف حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ کاغذ کے استعمال میں کمی، وسائل کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

وزیراعلیٰ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 خیبر پختونخوا میں جدید، اختراعی اور ماحول دوست ڈیجیٹل معیشت کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں