لاہور میں ذہنی معذور لڑکی سے اے ایس آئی کی مبینہ زیادتی، ایف آئی آر میں تاخیر پر 78 پولیس اہلکار معطل
لاہور: لاہور پولیس نے غازی آباد کے علاقے میں 19 سالہ ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں اے ایس آئی عمران کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے کے بعد ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر سخت کارروائی کرتے ہوئے غازی آباد تھانے کے تمام عملے سمیت مجموعی طور پر 78 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی دوپہر تقریباً ایک بجے گھر سے نکلی تھی اور کئی گھنٹے تک واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔ ایک مقامی شہری نے اہل خانہ کو بتایا کہ سادہ لباس میں ملبوس ایک پولیس اہلکار لڑکی کو موٹرسائیکل پر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ بعد ازاں متاثرہ لڑکی نے اہل خانہ کو بتایا کہ اے ایس آئی عمران اسے ایک دوسرے مقام پر لے گیا جہاں مبینہ طور پر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ متاثرہ کے بیان کی روشنی میں پیر کے روز ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (انویسٹیگیشن) سید ذیشان رضا نے مقدمے کے فوری اندراج اور شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور غفلت پر محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے سابق ایس ایچ او شہریار، تفتیشی افسر، فرنٹ ڈیسک عملے، ڈیوٹی افسران، ڈرائیورز اور دیگر اہلکاروں سمیت غازی آباد تھانے کے پورے عملے کو معطل کر دیا۔ حکام نے علی زیب دستگیر کو غازی آباد تھانے کا نیا ایس ایچ او تعینات کر دیا ہے۔