کراچی میں پانی و سیوریج چارجز میں 7.05 فیصد اضافہ، ناقص فراہمی پر شہریوں کا شدید احتجاج
کراچی (اسٹاف رپورٹر): کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے رہائشی اور بلک صارفین کے لیے پانی اور سیوریج چارجز میں 7.05 فیصد یکساں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد شہر بھر میں شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی ناقص فراہمی کے باوجود بلوں میں مسلسل اضافہ ناانصافی ہے۔
سندھ حکومت کے 10 اگست 2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق، KWSC بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد صارفین کی قیمتوں کے اشاریے (Consumer Price Index) کی بنیاد پر نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔ نئی شرح کے تحت رہائشی صارفین سے پانی اور سیوریج کے ماہانہ چارجز پلاٹ کے سائز کے مطابق وصول کیے جائیں گے، جبکہ تجارتی اداروں اور دکانوں کے لیے بھی نئے مقررہ ماہانہ نرخ نافذ کر دیے گئے ہیں۔
یہ گزشتہ دو برسوں میں پانی کے نرخوں میں دوسرا بڑا اضافہ ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2024 میں بھی تقریباً 23 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ اس وقت سیوریج چارجز پانی کے بل کا 9 فیصد مقرر کیے گئے تھے۔
شہریوں نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے متعدد علاقوں میں باقاعدہ پانی کی فراہمی نہ ہونے کے باعث انہیں مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنا پڑتے ہیں، اس کے باوجود واٹر کارپوریشن مکمل بل وصول کر رہی ہے۔ گلشنِ اقبال کے رہائشی محمد عرفان کے مطابق ان کے علاقے میں مہینے میں صرف دو مرتبہ، وہ بھی آدھے گھنٹے کے لیے پانی آتا ہے، جبکہ باقی ضرورت ٹینکر کے ذریعے پوری کرنا پڑتی ہے۔
ماڈل کالونی کی رہائشی سعدیہ بٹ نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بعد اب پانی بھی مزید مہنگا ہو گیا ہے، جس سے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ ملیر کے علاقے کھوکھراپار کے دکاندار عبدالغفور کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں پائپ لائن کے ذریعے پانی سرے سے آتا ہی نہیں، اس کے باوجود مقررہ بل وصول کیے جا رہے ہیں، اور نئے اضافے سے چھوٹے کاروباری افراد پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔
دوسری جانب، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا مؤقف ہے کہ نرخوں میں اضافے کا مقصد ادارے کی مالی استعداد کو بہتر بنانا، پانی کی فراہمی، سیوریج نظام کی دیکھ بھال، مرمت اور شہری خدمات کے لیے پائیدار وسائل پیدا کرنا ہے۔ ادارے کے مطابق 2026 کے پہلے چار ماہ میں 8.14 ارب روپے وصول کیے گئے جبکہ اوسط ماہانہ آمدنی 2.26 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
تاہم ادارے کی وصولیوں اور شکایات کے ازالے کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں صرف 36 فیصد شکایات مقررہ مدت میں حل کی جا سکیں۔ KWSC حکام کا کہنا ہے کہ KWSC Act 2023 کے تحت ادارہ مہنگائی کی شرح کے مطابق سالانہ ٹیرف میں ردوبدل کا اختیار رکھتا ہے، جبکہ اضافی آمدنی عالمی بینک کے تعاون سے جاری Karachi Water and Sewerage Services Improvement Project کے اہداف کی تکمیل اور شہری خدمات کی بہتری کے لیے بھی ضروری ہے۔