پنجاب حکومت کا پیپر لیس گورننس نظام متعارف، سرکاری خدمات مکمل ڈیجیٹل بنانے کا آغاز
لاہور (اسٹاف رپورٹر): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں پیپر لیس گورننس کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے حکومت سے حکومت (G2G)، حکومت سے کاروبار (G2B) اور حکومت سے شہری (G2C) خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں e-FOAS، e-Procurement، e-Pay، e-Auction، OneMap، HRMIS اور ڈیٹا ویئر ہاؤس جیسے جدید ڈیجیٹل نظام قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کے حوالے سے منعقدہ آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو ہدایت کی کہ پیپر لیس آٹومیشن سافٹ ویئر کے حصول کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور شہریوں سے مسلسل فیڈ بیک حاصل کیا جائے تاکہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ مکمل خودکار اور پیپر لیس نظام بدعنوانی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو معمولی کاموں کے لیے بھی سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں، جبکہ ایسے ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں جن میں درخواست گزار کی شناخت ظاہر کیے بغیر خدمات فراہم کی جائیں گی، جس سے کرپشن کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہر شعبے، ہر محکمے اور ہر ادارے کو ڈیجیٹلائزیشن کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ آٹومیشن کے ذریعے سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان براہِ راست رابطے کی ضرورت کم ہوگی، جس سے شفافیت اور گڈ گورننس کو فروغ ملے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 6,000 سے زائد سرکاری نظام PITB کے مرکزی ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک کیے جا چکے ہیں، جبکہ 600 سے زائد ادارے e-FOAS کے ذریعے ڈیجیٹل نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہیں۔ ای-فائلنگ سسٹم کے تحت 176,173 سمری نوٹسزجاری کیے گئے، جس سے 91 لاکھ روپے کی بچت ہوئی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی اسمارٹ مانیٹرنگ سے شفافیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ بھر کے 25 ہزار سے زائد سپلائرز کو ای-پروکیورمنٹ سسٹم سے منسلک کیا جا چکا ہے، جس کے تحت 6 کھرب روپے سے زائد مالیت کی ڈیجیٹل خریداری اور 12 لاکھ 90 ہزار ٹینڈرز کی پراسیسنگ مکمل کی گئی ہے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ای-پروکیورمنٹ سسٹم نے مکمل شفاف، اینڈ ٹو اینڈ ٹینڈرنگ کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے درخواست گزاروں کو سرکاری دفاتر جانے کی ضرورت نہیں رہی اور 13 لاکھ روپے کی بچت ممکن ہوئی، جبکہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے ذریعے 1.137 ارب روپے کی آمدنی بھی حاصل ہوئی۔