ساہیوال:معطل ایس ایچ او ہڑپہ کو پھولوں سے الوداع کرنے پر ڈی پی او نے مزید اہلکار معطل کر دیے۔
ساہیوال: ہڑپہ میں ایک شہری کی جانب سے پولیس افسر کے خلاف شکایت کے بعد ایس ایچ او ہڑپہ ماجد کو معطل کیے جانے کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا، جبکہ معطل ایس ایچ او کے اعزاز میں مبینہ طور پر الوداعی تقریب منعقد کرنے اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے پر ڈی پی او ساہیوال عثمان ٹیپو نے مزید پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے ڈی پی او ساہیوال کو درخواست دی تھی کہ لاہور میں سی ایس ایس کی تیاری کے دوران ایک شخص سے اس کی شناسائی ہوئی، جس نے مبینہ طور پر شادی کا جھانسہ دے کر اس کی ویڈیوز بنائیں اور بعد ازاں اسے بلیک میل کرکے رقم وصول کرتا رہا۔
خاتون کے مطابق شادی کے بعد بھی مذکورہ شخص نے اس کا واٹس ایپ نمبر حاصل کرکے اسے دھمکانا شروع کیا اور مبینہ طور پر رقم کا مطالبہ کرتا رہا۔ چند روز قبل ملزم نے اسے دوبارہ ملاقات کے لیے مجبور کیا۔ خاتون کے شوہر کو شک ہوا تو اس نے ان کا تعاقب کیا، جس دوران مبینہ طور پر ملزم خاتون کو ہڑپہ کی جانب لے گیا۔ شوہر کے پہنچنے پر ملزم گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون اور اس کے شوہر نے ہڑپہ تھانے سے رجوع کیا، تاہم الزام ہے کہ ایس ایچ او ماجد نے کارروائی سے انکار کردیا۔ بعد ازاں معاملہ ڈی پی او ساہیوال عثمان ٹیپو کے علم میں لایا گیا۔
ذرائع کے مطابق ڈی پی او کی ہدایت پر معاملے کی جانچ کی گئی اور ایس ایچ او کے مبینہ طور پر ملزم سے رابطوں سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ انکوائری کے بعد ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا۔
تاہم واقعے کے بعد مبینہ طور پر تھانے کے بعض اہلکاروں نے معطل ایس ایچ او کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا اور انہیں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے الوداع کیا۔ اس معاملے کا علم ہونے پر ڈی پی او ساہیوال نے مبینہ طور پر تقریب میں شریک مزید 10 اہلکاروں کو بھی معطل کر دیا۔