موسمیاتی تبدیلی سے چترال کی مقامی شہد کی مکھی کو خطرہ

چترال: موسمیاتی تبدیلی چترال میں پائی جانے والی مقامی شہد کی مکھی ایپس سیرانا کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے، جس سے پہاڑی زراعت، حیاتیاتی تنوع اور ضلع کے سیکڑوں دیہی گھرانوں کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ انکشاف خیبر پختونخوا محکمہ جنگلات کے تحت شہد کی مکھیوں کی آبادی اور ان کے لیے دستیاب نباتاتی وسائل کے حالیہ فیلڈ سروے میں سامنے آیا ہے۔ سروے میں مقامی شہد کی مکھی کی ماحولیاتی اور دیہی معیشت کے لیے اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

سروے کے مطابق چترال میں ایپس سیرانا کی تقریباً 5,500 کالونیاں موجود ہیں، جن میں 2,800 زیرِ انتظام چھتے جبکہ تقریباً 2,700 جنگلی کالونیاں شامل ہیں۔ اس تعداد کے باعث چترال صوبے میں مقامی شہد کی مکھی کے اہم ترین مسکنوں میں شمار ہوتا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق کالونیوں کی سب سے زیادہ تعداد کالاش وادیوں بمبوریت، رمبور اور بیریر کے علاوہ ارندو، یارخون، ریشن اور بالائی چترال کی وادیوں میں ریکارڈ کی گئی، جہاں روایتی شہد کی مکھی پالنا اب بھی گھریلو سرگرمی کا اہم حصہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی شہد کی مکھیاں پہاڑی وادیوں میں پیدا ہونے والے سیب، خوبانی، چیری، بادام اور سبزیوں کی فصلوں کی بارآوری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ جنگلی پودوں کی افزائش میں بھی معاونت کرتی ہیں، جو پرندوں، جنگلی حیات اور نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام کے لیے ضروری ہیں۔

محکمہ نان ٹمبر فاریسٹ پروڈکٹس (NTFP) چترال کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز احمد نے کہا کہ زیرِ انتظام اور جنگلی کالونیوں کی آبادی سے متعلق اعداد و شمار کی کمی تحفظ کی منصوبہ بندی میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ معلوم نہیں تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے دباؤ کے باعث ہر سال کتنے چھتے خالی ہو جاتے ہیں، تاہم GIS میپنگ اور کالونیوں کی انوینٹری کے ذریعے اب اہم شہد کی مکھیوں کے مسکنوں کی نشاندہی اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی منصوبہ بندی ممکن ہو گئی ہے۔

سروے کے مطابق موسم کے بدلتے ہوئے رجحانات، پھول کھلنے کے اوقات میں تبدیلی اور مسکنوں کی تباہی کالونیوں کی بقا کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ مقامی شہد کی مکھی پالنے والوں نے بھی کئی علاقوں میں کالونیوں کی تعداد میں کمی کی تصدیق کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موزوں مسکنوں کا تحفظ نہ کیا گیا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

بیریر وادی کے روایتی شہد پالنے والے ولی خان نے بتایا کہ چند برس قبل ان کے پاس 62 کالونیاں تھیں، جو اب کم ہو کر صرف 23 رہ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے سال صحت مند کالونیوں کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ پھولوں کے موسم میں تبدیلی اور موسم کی غیر یقینی صورتحال نے شہد کی مکھیوں کی افزائش کو متاثر کیا ہے۔

دور دراز پہاڑی علاقوں میں بہت سے خاندانوں کے لیے شہد کی مکھی پالنا آمدنی کے قابلِ اعتماد ذرائع میں شامل ہے۔ ارندو گول کے شہد پالنے والے جان محمد نے بتایا کہ ایپس سیرانا ان کے گاؤں کے لوگوں کے روزگار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان کے مطابق وہ ہر سال تقریباً 500 کلوگرام مقامی شہد چترال کی مارکیٹ میں تقریباً 7,500 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کرتے ہیں۔ اس آمدنی سے ان کے خاندان کے اخراجات، خصوصاً بچوں کی تعلیم اور گھریلو ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

تاہم بعض شہد پالنے والوں کے لیے کالونیوں کا نقصان روزگار سے محرومی کا باعث بھی بنا ہے۔ ارندو وادی سے تعلق رکھنے والے گل بدین نے بتایا کہ ان کے زیادہ تر چھتے اچانک ختم ہو گئے یا مکھیاں ہجرت کر گئیں، جس کے بعد انہیں شہد کا کاروبار چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں چترال شہر منتقل ہونا پڑا۔

مقامی شہد کی بڑھتی ہوئی طلب بھی اس شعبے کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ شہد کے پروڈیوسرز اور کمیونٹی کاروباری اداروں کے مطابق صارفین ایپس سیرانا سے حاصل ہونے والے مقامی شہد کو اس کے منفرد ذائقے اور مبینہ طبی خصوصیات کے باعث زیادہ پسند کر رہے ہیں۔

چترال میں محکمہ NTFP کے تحت قائم کمیونٹی بیسڈ NTFP انٹرپرائز کی جنرل سیکریٹری شاہی گل نے بتایا کہ مقامی شہد کی طلب مضبوط ہے۔ ان کے مطابق صرف گزشتہ چار ماہ کے دوران بمبوریت میں ان کے کمیونٹی انٹرپرائز اسٹور سے تقریباً 520 کلوگرام شہد فروخت ہوا، جبکہ ملک کے مختلف حصوں سے آن لائن آرڈرز بھی موصول ہو رہے ہیں۔

مقامی شہد پالنے والوں کا کہنا ہے کہ ایپس سیرانا کی اہمیت صرف معاشی نہیں بلکہ ثقافتی بھی ہے۔ ہندوکش بی کیپرز سوسائٹی کے شاہزاد خان کے مطابق چترال میں روایتی طور پر شہد کی مکھی پالنے کا سلسلہ کئی نسلوں سے جاری ہے اور یہ مقامی ثقافت، ورثے اور شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی شہد کی مکھیوں کی ماحولیاتی اور معاشی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ جنگلات کے ڈائریکٹوریٹ NTFP کے ذریعے ’’خیبر پختونخوا میں مقامی شہد کی مکھیوں کا تحفظ اور ویلیو چین ڈویلپمنٹ‘‘ کے عنوان سے منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔

منصوبے میں شہد کی مکھیوں کی کالونیوں کا سروے، GIS میپنگ، نباتاتی وسائل کا جائزہ، پھولوں کے موسمی کیلنڈر کی تیاری، شہد پالنے والوں کی تربیت، مسکنوں کی بحالی اور ویلیو چین کی معاونت شامل ہے۔

سروے کے مطابق چترال میں مقامی ایپس سیرانا شہد کی سالانہ پیداوار کا تخمینہ 1.6 ٹن ہے، جس سے سیکڑوں دیہی گھرانوں کو براہِ راست اور بالواسطہ آمدنی کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق اب تحفظ کی کوششوں کو صرف دستاویزات اور سروے تک محدود رکھنے کے بجائے شہد کی مکھیوں کے مسکنوں کے عملی تحفظ کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر NTFP اعجاز احمد نے بتایا کہ مقامی شہد کی مکھی نہ صرف شہد فراہم کرتی ہے بلکہ پولینیشن کے ذریعے اہم ماحولیاتی خدمات بھی انجام دیتی ہے۔ منصوبے کے تحت چترال میں مقامی شہد کی مکھیوں اور ان کے مسکنوں کے تحفظ کے لیے بی ریزرو (Bee Reserve) قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

ان کے مطابق مجوزہ ریزرو ایپس سیرانا اور دیگر پہاڑی پولینیٹرز کے لیے محفوظ مسکن فراہم کرے گا، جبکہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تعلیم اور ایکو ٹورزم کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پولینیٹرز کی آبادی میں کمی پہاڑی علاقوں میں غذائی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

چترال میں جہاں زراعت، جنگلات اور دیہی معیشت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، وہاں مقامی شہد کی مکھی کا مستقبل وسیع تر ماحولیاتی نظام کی صحت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر ایپس سیرانا کا تحفظ محض ایک مکھی کو بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ پہاڑی روزگار، ثقافتی ورثے اور آنے والی نسلوں کے قدرتی وسائل کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔

متعلقہ خبریں