کراچی میں موسمیاتی بحران سنگین، KCAP پر عملدرآمد تیز کرنے کا مطالبہ
کراچی: ماہرین نے کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان پر سست عملدرآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مربوط اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی کو شدید گرمی، شہری سیلاب، خشک سالی، ساحلی خطرات، فضائی آلودگی اور سبز علاقوں میں تیزی سے کمی جیسے خطرات کا سامنا ہے۔
کراچی میں دی نالج فورم، کراچی یونین آف جرنلسٹس اور لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام میڈیا ڈائیلاگ میں ماہرین نے کہا کہ شہر کا تعمیر شدہ رقبہ 2013 سے 2023 کے دوران 270 سے بڑھ کر 538 مربع کلومیٹر ہوگیا، جبکہ گھاس اور جھاڑیوں، زرعی زمین اور مینگرووز میں نمایاں کمی ہوئی۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے مسعود طارق نے کہا کہ KCAP کا مقصد کراچی کو 2050 تک کاربن نیوٹرل بنانے کے ساتھ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔ انہوں نے مینگرووز کے تحفظ، بہتر نکاسی آب، شہری سبز علاقوں میں اضافے اور فضلے کے مؤثر انتظام پر زور دیا۔
کلین انرجی ماہر باسل اینڈریوز نے بتایا کہ کراچی میں تقریباً 2,300 میگاواٹ سولر صلاحیت نصب ہوچکی ہے، تاہم توانائی کی منتقلی کے فوائد کم آمدنی والے صارفین تک بھی پہنچانے کی ضرورت ہے۔