پاکستان میں آبی مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے: ڈاکٹر کلاڈیا رنگلر

اسلام آباد: انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی ایف پی آر آئی) کی ڈائریکٹر برائے ایگری فوڈ انوویشن اینڈ ریزیلینس ڈاکٹر کلاڈیا رنگلر نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے آبی مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام سرکاری اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی، مشترکہ سرمایہ کاری، موسمیاتی لچک اور نوجوانوں کی شمولیت پر زور دیا ہے۔

پانچ روزہ چھٹی پاکستان واٹر ویک 2026 کی بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کے مسائل صرف آبی وسائل کے انتظام سے متعلق ادارے حل نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لیے حکومت کے تمام متعلقہ محکموں اور مختلف شعبوں کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

ڈاکٹر کلاڈیا رنگلر نے ہمالیائی ممالک کے درمیان علاقائی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ گلیشیئرز کے عدم استحکام، پہاڑی تودے گرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پینے کے صاف پانی اور صفائی سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف 6.1 اور 6.2 کے حصول کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی واش منصوبوں میں ہم آہنگی اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید ڈیٹا اور مربوط آبی ماڈلز کے ذریعے شہروں، زراعت، توانائی اور ماحولیاتی نظام کی پانی کی ضروریات میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے۔ آبی ترقیاتی منصوبوں کی پائیداری کے لیے ان کے معاشی، مالی، ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا جامع جائزہ بھی ضروری ہے۔

بلوچستان میں زیر زمین پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے، دریاؤں اور دلدلی علاقوں کی بحالی جیسے قدرتی ماحول پر مبنی اقدامات میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔

ڈاکٹر رنگلر نے آبی پالیسی سازی میں نوجوانوں کی شمولیت اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پانی کے انتظام اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے یوتھ انوویشن ایوارڈ متعارف کرانے کی تجویز بھی دی۔

انہوں نے کہا کہ آبی شعبے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ڈیزل کے بجائے شمسی توانائی کا استعمال، سیوریج سے میتھین گیس کے اخراج میں کمی اور زراعت و آبپاشی میں پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین واٹو نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور پرامن ذرائع اختیار کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے معاہدے اور پابند ثالثی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل بھی کی۔

متعلقہ خبریں