راول ڈیم میں گندا پانی جانے سے روکنے کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ٹینڈرز کھول دیے گئے
اسلام آباد: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے راول ڈیم میں بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کے اخراج کو روکنے کے لیے مجوزہ تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے منصوبے کے مالیاتی ٹینڈرز کھول دیے ہیں۔
منصوبے کے تحت کورنگ دریا اور دیگر ندی نالوں میں جانے والے گندے پانی کو ٹریٹ کرنے کے لیے تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ کئی سال قبل تجویز کیا گیا تھا، تاہم ہر سال محدود فنڈز مختص ہونے کے باعث تاحال باضابطہ طور پر شروع نہیں ہوسکا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 6.07 ارب روپے ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی حکومت نے اس مقصد کے لیے 44 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ دستیاب فنڈز کی موجودہ سطح کے باعث منصوبہ رواں مالی سال شروع ہونے کی صورت میں بھی اس کی تکمیل میں خاصا وقت لگنے کا امکان ہے۔
سی ڈی اے ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر بنی گالا میں ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کی لاگت کا 64 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 36 فیصد پنجاب حکومت فراہم کرے گی۔
ذرائع کے مطابق ایس ٹی پی ون کے لیے کشمیر پری انجینئرڈ کنسٹرکشن اور میٹراکان کے جوائنٹ وینچر نے 2.9 ارب روپے کی کم ترین بولی جمع کرائی ہے۔
متبادل آپشن ٹو کے تحت لنگزی آسٹرل (Lingzhi Astral) نے 2.834 ارب روپے کی کم ترین بولی دی ہے۔ سی ڈی اے کے ایک افسر کے مطابق اتھارٹی آپشن ٹو کی بولیوں کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی۔
دو دیگر جوائنٹ وینچرز، ZKB-Beihang اور Elite Engineering Orient بھی بولی کے عمل میں شامل تھے، تاہم ان کی پیش کردہ قیمتیں زیادہ تھیں۔
ایس ٹی پی ٹو کے لیے KAPEC-Matracon کی بولی 2.15 ارب روپے جبکہ آپشن ٹو کے تحت Lingzhi Astral کی بولی تقریباً 1.67 ارب روپے ہے۔
بنی گالا پلانٹ ترجیحی بنیادوں پر قائم ہوگا
ایس ٹی پی تھری کورنگ نالہ پر بنی گالا کے قریب قائم کیا جائے گا اور سی ڈی اے اسے ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنا چاہتا ہے۔ اس پلانٹ کے لیے بھی KAPEC-Matracon نے تقریباً 3.2 ارب روپے کی کم ترین بولی جمع کرائی ہے۔
منصوبے کے تحت لوئر شاہدرہ، بری امام اور بنی گالا کے قریب تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ کیچمنٹ ایریا سے آلودہ پانی راول ڈیم میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔
سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولیات نہ ہونے کے باعث کیچمنٹ ایریا میں قائم غیر منصوبہ بند آبادیوں کا بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج مسلسل آبی گزرگاہوں کے ذریعے ذخیرے میں شامل ہورہا ہے۔ مجوزہ پلانٹس کا مقصد گندے پانی کو ٹریٹ کرکے راول ڈیم کے پانی کو آلودگی سے محفوظ بنانا ہے۔