لاہور ہائی کورٹ نےاینٹی کرپشن حکام کوکوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ارکان کے خلاف کاروائی سے روک دیا گیا۔
لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ارکان کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو انکوائری جاری رکھنے اور کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس محمد جواد ظفر نے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل شیخ صداقت کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران صوبائی لاء افسر نے اے سی ای کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت سوسائٹی کے ارکان سرکاری ملازمین کی تعریف میں آتے ہیں، اس لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ انہیں قانون کے تحت کارروائی کا نشانہ بنا سکتی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں داؤد نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ کوآپریٹو سوسائٹی کے ارکان سرکاری ملازمین تصور نہیں ہوتے کیونکہ انہیں سرکاری خزانے سے تنخواہ ادا نہیں کی جاتی۔
انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ عدالتی فیصلے کے بعد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات میں اے سی ای کی مداخلت کا اختیار ختم ہو چکا ہے۔
جسٹس محمد جواد ظفر نے ریمارکس دیے کہ درخواست میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں جن پر تفصیلی سماعت کی ضرورت ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے حتمی دلائل طلب کر لیے اور متنازع انکوائری کے خلاف عبوری حکم امتناع جاری کر دیا۔ عدالت نے اے سی ای کو درخواست گزار کی سوسائٹی کے ارکان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا۔
درخواست میں اے سی ای کی جانب سے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات میں انکوائری شروع کرنے اور مقدمات درج کرنے کے اختیار کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سوسائٹی کے خلاف انکوائری ایک ایسے شخص کی شکایت پر شروع کی گئی جو مبینہ طور پر عادی شکایت کنندہ ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ قانون کے تحت ایسے تنازعات سے نمٹنے کا اختیار صرف پنجاب کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔
درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران اے سی ای نے شہریوں کے خلاف بے بنیاد شکایات پر انکوائریاں شروع کرکے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور انہیں ’بلیک میل‘ کیا۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سوسائٹی کے خلاف جاری انکوائری کو دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔