گلشن ٹاؤن میں ناجائز تجاوزات: پبلک روڈز اور گلیوں پر قبضے، انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
بااثر لوگوں نے پبلک روڈز اور گلیوں پر غیر قانونی کنکریٹ ڈھانچے اور گاڑیوں کے پارکنگ شیڈز بنالئے ہیں، ٹاؤن چئیرمین ووٹ بینک کے لئے خاموش اور انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔
کراچی: ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال میں ”روڈ اینڈ سٹریٹ ری ہیبلیٹیشن“ کا کام جاری ہے اور انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ”ہر روز ایک سڑک“ تیار کی جا رہی ہے۔ تاہم مقامی رہائشیوں اور والدین کا کہنا ہے کہ یہ بحالی تجاوزات ہٹائے بغیر ہو رہی ہے، جس سے گلیوں میں گزرنے کے راستے بالکل محدود ہوگئے ہیں ۔
رہائشیوں کے مطابق بعض بااثر لوگوں نے پبلک روڈز اور گلیوں پر غیر قانونی کنکریٹ ڈھانچے بنا لیے ہیں، گاڑیوں کے پارکنگ شیڈز بنادیئے گئے ہیں، گھروں کے سامنے چھوٹے باغیچوں کے لیے بھی عوامی جگہ پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور گلیوں میں مستقل بیریئرز بھی لگائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر بلاک 7 اور بلاک 8 میں صورتحال انتہائی خراب ہے، جہاں زیادہ تر بچوں کے اسکول اور تعلیمی ادارے واقع ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ ان تجاوزات کی وجہ سے صبح اور دن کے وقت اسکولوں کے اوقاتِ کار مکمل طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ بچوں کی آمدورفت مشکل ہو گئی ہے، ٹریفک جام معمول بن گیا ہے اور والدین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
گلشن ٹاؤن کی سیاسی قیادت اپنے ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کے لیے ان تجاوزات کو نظر انداز کر رہی ہے تاکہ متاثرہ حلقوں کی حمایت برقرار رہے۔
شہریوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ گلشن ٹاؤن انتظامیہ ان ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انتظامیہ اپنے ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کے لیے ان تجاوزات کو نظر انداز کر رہی ہے تاکہ متاثرہ حلقوں کی حمایت برقرار رہے۔
رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ سڑکوں کی بحالی سے پہلے تمام غیر قانونی تجاوزات کو ہٹایا جائے تاکہ عوامی راستے کھلے رہیں اور عام راہ گیروں اور اسکول جانے والے بچوں کو مشکلات نہ ہوں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور شفاف کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔