پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے محض بحث مباحثے کے بجائےعملی اقدامات کی ضرورت ہے: ماہرین
اسلام آبا : ماہرین نے زور دیا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے محض بحث کے بجائے عملی، مقامی آبادی پر مرکوز اور جوابدہ اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں سائنسی اور مقامی روایتی علم، مؤثر حکمرانی، بروقت وارننگ کے نظام اور طویل المدتی موسمیاتی لچک کی منصوبہ بندی کو شامل کیا جائے۔
اسلام آباد میں جمعے کے روز اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کے زیر اہتمام ’Living with Floods in Climate Change Present‘ کے عنوان سے پینل ڈسکشن منعقد ہوئی، جس میں پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، موسمیاتی ماہرین، ماحولیاتی صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان میں سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات اور زیادہ مؤثر، مساوی اور پائیدار موسمیاتی و آبی حکمرانی کی ضرورت پر غور کیا۔
سینئر ماحولیاتی صحافی اور موسمیاتی کارکن افیا سلام نے پینل کی نظامت کی۔ پینل میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری مصدق ملک، پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے نمائندہ سیموئل رزک، کریٹیکل جغرافیہ کے پروفیسر ڈاکٹر دانش مصطفیٰ، ہائیڈرولوجی کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس اور موسمیاتی و آبی حکمرانی کی ماہر فاضلہ نبیل سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ کئی دہائیوں سے موسمیاتی تبدیلی پر بحث جاری ہونے کے باوجود زمینی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ 2000 سے موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سنتے آرہے ہیں جبکہ اس حوالے سے کام 1980 کی دہائی سے جاری ہے، لیکن اتنی طویل بحث کے باوجود زمینی حقائق میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ تقریباً 0.7 سے 0.9 فیصد ہے، جبکہ چند بڑے اخراج کرنے والے ممالک عالمی اخراج کا بہت بڑا حصہ پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی مالی معاونت تک رسائی میں موجود عدم مساوات کی بھی نشاندہی کی۔
مصدق ملک نے کہا کہ یہ لکھ دینا آسان ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کتنی رقم درکار ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس مطلوبہ وسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق صرف باتیں کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ نئے حل تلاش کرے اور کہا کہ موجودہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں، تاہم جن مسائل کا سامنا ہے ان کے حل کے لیے نئے طریقوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔
مصدق ملک نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ماحولیاتی چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا۔ انہوں نے بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں میں آنے والی تبدیلی اور شمسی ٹیکنالوجی و برقی گاڑیوں کے شعبے میں چین کے عالمی کردار کا حوالہ دیا۔
افیا سلام نے حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ نیپال کی کمیونٹیز سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ قدرتی آفات موسمیاتی تبدیلی کے شدید اور فوری اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔
انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ہنگامی حالات کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پیشگی اقدامات اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر توجہ دے تاکہ موسمیاتی لچک کو مضبوط اور انسانی جانوں کا تحفظ کیا جاسکے۔
پروفیسر ڈاکٹر دانش مصطفیٰ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ان سوچوں اور مفروضوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا جو ماحولیاتی آفات کے بارے میں معاشرے کے ردعمل کو تشکیل دیتے ہیں۔
ہائیڈرولوجی کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے گلیشیئرز کے پیچیدہ نظام اور حساس ماحولیاتی نظام میں انسانی مداخلت کے نتائج کی جانب توجہ دلائی۔
موسمیاتی و آبی حکمرانی کی ماہر فاضلہ نبیل نے موسمیاتی تبدیلی کو مستقبل کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے موجودہ چیلنج کے طور پر فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان میں یو این ڈی پی کے نمائندہ سیموئل رزک نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ابتدائی وارننگ اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
پینل ڈسکشن کے بعد ماہرین، پالیسی سازوں اور موسمیاتی امور کے کارکنوں پر مشتمل ایک راؤنڈ ٹیبل بھی منعقد ہوا، جس میں رینا سعید، ڈاکٹر صبیحہ روز، دیدار علی، ڈاکٹر اعجاز تنویر، ڈاکٹر محمد عثمان، شفقت منیر، محمد فواد اور ڈاکٹر محمد فیصل علی سمیت دیگر نے شرکت کی۔
مقررین نے اس امر کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان تاریخی طور پر سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ’ہارڈ فکسز‘ یعنی بڑے تعمیراتی اور انجینئرنگ حل پر زیادہ انحصار کرتا رہا ہے، تاہم پائیدار موسمیاتی لچک کے لیے حکمرانی کے نظام میں موجود کمزوریوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے۔