انڈس ڈولفن کے بچے کی ہلاکت، نایاب نسل کے تحفظ پر تشویش

ڈیرہ غازی خان: شیر وجدید، ارائیں والا سپر کے قریب دو سالہ انڈس ڈولفن کے بچے کی لاش ملنے پر ماہرین نے نایاب اور خطرے سے دوچار آبی حیات کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین نے ماہی گیری کے ٹھیکوں اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی جال اور ماہی گیری کے طریقے انڈس ڈولفن کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

انڈس ڈولفن کے بچے کی لاش ڈیرہ غازی خان تھانے کی حدود میں دریائے سندھ کے قریب مقامی افراد کو ملی۔ یہ مقام ’پتن‘ کے قریب واقع ہے جہاں مقامی لوگ کشتیوں کے ذریعے دریا عبور کرنے کے لیے باقاعدگی سے آتے جاتے ہیں۔

مقامی وکیل عطا اللہ نے بتایا کہ انہوں نے خود موقع پر جاکر ڈولفن کے بچے کی لاش دیکھی اور واقعے سے محکمہ جنگلی حیات کے حکام کو آگاہ کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔

ان کے مطابق علاقے میں ماہی گیری کے بعض ٹھیکیدار مبینہ طور پر ممنوعہ جال اور غیر قانونی طریقے استعمال کرتے ہیں، جن کی زد میں انڈس ڈولفن بھی آجاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ماہی گیر پلہ مچھلی پکڑنے کے لیے ممنوعہ جال استعمال کرتے ہیں، جن میں ڈولفن پھنس کر ہلاک ہوجاتی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سابق سینئر کنزرویشن افسر عمر وقاص نے ڈولفن کے بچے کی لاش کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ دو سالہ مادہ انڈس ڈولفن کی ہلاکت نایاب میٹھے پانی کی اس نسل کے تحفظ کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاش پر کسی قسم کے واضح بیرونی زخم کے نشانات نہیں تھے، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ڈولفن ماہی گیری کے جال میں پھنسنے کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہوئی۔ جال میں الجھنے کے بعد وہ سانس لینے کے لیے سطح آب تک نہیں پہنچ سکی۔

عمر وقاص کے مطابق یہ واقعہ ماہی گیری کے ٹھیکیداروں کے لائسنس معاہدوں پر کمزور عملدرآمد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے ان معاہدوں پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا یہ مخصوص حصہ سرکاری طور پر انڈس ڈولفن کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیا جاچکا ہے۔

انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور زمینی سطح پر نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طویل المدتی تحفظ اور تحقیقی مقاصد کے لیے ہلاک ہونے والی ڈولفن کے باقیات سے ڈی این اے نمونے حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈولفن کی لاش سے غیر مناسب طریقے سے نمٹنا بھی ایک اہم انتظامی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق انڈس ڈولفن پاکستان کا قومی اثاثہ ہے اور اس کے ساتھ باوقار انداز میں برتاؤ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ ڈولفن کا بچہ زندہ ملا تھا یا پہلے ہی ہلاک ہوچکا تھا۔

نومنتخب ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر امیر نیازی نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ شواہد اکٹھے کرنے اور ڈولفن کی لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ایک ٹیم موقع پر روانہ کردی گئی ہے تاکہ ہلاکت کی اصل وجہ معلوم کی جاسکے۔

مقامی جنگلی حیات کے شوقین افراد نے محکمہ جنگلی حیات کی فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں محکمہ اکثر علاقے کے رہائشیوں کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرتا ہے، جو مؤثر نگرانی کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں