ساہیوال کول پاور پلانٹ سے مقامی آبادی کی زندگی، پانی اور آمدورفت متاثر ہونے کا انکشاف

لاہور: سٹیزنز کلیکٹو فار جسٹ انرجی ڈویلپمنٹ (CCJED)، جو سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کا اتحاد ہے، نے ارکانِ اسمبلی، سیاسی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں، ماہرین ماحولیات اور توانائی کے ماہرین کے ہمراہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ سے متاثرہ مقامی آبادی کے مسائل کا فوری ازالہ کیا جائے۔

مشاورتی اجلاس کے دوران CCJED کی رکن تنظیم پنڈ سدھار سروسز (PSS) نے ایک تحقیقی رپورٹ پیش کی، جس میں پاور پلانٹ کے قیام کے بعد علاقے اور مقامی آبادی پر پڑنے والے اثرات کے شواہد پیش کیے گئے۔ رپورٹ 121 گھرانوں کے سروے، فوکس گروپ ڈسکشنز، انٹرویوز اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق پلانٹ کے آپریشنل ہونے کے بعد بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 16 فیصد رہ گئی، جبکہ صرف 3 فیصد گھرانے پلانٹ کو اپنی آمدنی کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ رپورٹ میں ماحولیاتی نگرانی کی رپورٹس اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) سے متعلق مالی حسابات کی عدم دستیابی کی بھی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پلانٹ آپریٹر کے سالانہ خالص منافع کا 2 فیصد وصول کرنے کے لیے ہوانینگ ساہیوال ویلفیئر ٹرسٹ قائم کیا گیا تھا، تاہم اپریل 2026 تک اس کی وصولیوں اور اخراجات کا کوئی عوامی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔

مقامی رہائشیوں نے اجلاس میں بتایا کہ پینے کے پانی کا معیار خراب ہوا ہے، جبکہ پاور پلانٹ کی ضروریات کے لیے آبپاشی کے ایک آؤٹ لیٹ کی بندش کے باعث 275 ایکڑ زرعی اراضی نہری پانی سے محروم ہو گئی ہے۔

PSS کے نمائندگان علویرا وقاص، شفیق اور رشید چوہدری نے کہا کہ نجی زرعی زمین پر پاور پلانٹ کی تعمیر سے مقامی لوگوں کے روزگار، آبپاشی، پینے کے پانی کی فراہمی اور آمدورفت کا نظام متاثر ہوا ہے۔

الٹرنیٹو لا کلیکٹو (ALC) کے نمائندے رفاعی نے کہا کہ کوئلے سے چلنے والے منصوبوں کی وجہ سے مقامی آبادی پر پڑنے والے حقیقی اخراجات کا تعین آسان نہیں، کیونکہ ان کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے شفافیت، مقامی آبادی کی آواز کو تسلیم کرنے اور بڑے منصوبوں کے حقیقی اثرات کا جامع جائزہ لینے کے لیے مربوط طریقہ کار اپنانے پر زور دیا۔

لوک سجاگ کے عبداللہ چیمہ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے فوائد وسیع آبادی تک پہنچتے ہیں، اس لیے ان کی قیمت صرف میزبان آبادیوں کو ادا نہیں کرنی چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی سومیہ عطا شاہانی نے متاثرہ کمیونٹی کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مسائل پنجاب اسمبلی میں اٹھائیں گی، جبکہ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ ساہیوال کو کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے مقام کے طور پر منتخب کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا۔

اجلاس سے پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈویلپمنٹ کے اسد بزدار اور زارا، جماعت اسلامی کے خالد احمد بٹ، پنجاب کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک کی در شہوار اور ایڈووکیٹ عبداللہ ملک نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ خبریں