راول جھیل میں دوبارہ مردہ مچھلیاں ملنے کا انکشاف، پاک ای پی اے لیبارٹری رپورٹ کی منتظر

اسلام آباد: راول جھیل میں ایک بار پھر مردہ مچھلیاں دیکھے جانے کے بعد ماحولیاتی آلودگی پر تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) اب بھی لیبارٹری رپورٹ کی منتظر ہے تاکہ مچھلیوں کی ہلاکت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

گزشتہ اتوار کو راول جھیل میں پہلی مرتبہ مردہ مچھلیاں سامنے آئی تھیں۔ چار روز گزرنے کے باوجود یہ واضح نہیں ہو سکا کہ موجودہ مردہ مچھلیاں وہی ہیں یا اس دوران مزید مچھلیاں بھی ہلاک ہوئی ہیں۔

پاک ای پی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیغم عباس نے کہا کہ راول جھیل میں بڑھتی ہوئی آلودگی، جو راولپنڈی کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ بھی ہے، مچھلیوں کی ہلاکت کی ممکنہ وجہ ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری رپورٹ آئندہ چار سے پانچ روز میں موصول ہونے کے بعد اصل وجہ کی تصدیق ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ مون سون کے دوران جھیل میں شامل ہونے والا سیوریج کا پانی، ڈٹرجنٹس اور دیگر آلودہ مواد پانی میں آکسیجن کی مقدار کم کر دیتے ہیں، جس سے مچھلیاں دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہو جاتی ہیں۔

ڈاکٹر زئیغم عباس کے مطابق حالیہ سروے میں جھیل کے اطراف پلاسٹک کی آلودگی تشویشناک حد تک پائی گئی، جہاں پانی کی بوتلیں، پلاسٹک بیگز اور دیگر کچرا بڑی مقدار میں جھیل تک پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ راول ڈیم میں جمع ہونے والی مٹی (سلٹ) کی صفائی بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس سے بھی آبی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

رواں سال عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر پاک ای پی اے کی صفائی مہم کے دوران راول جھیل کے کناروں سے استعمال شدہ سرنجیں، اسپتالوں کا فضلہ اور بڑی مقدار میں پلاسٹک کا کچرا برآمد کیا گیا تھا، جس نے جھیل کو درپیش سنگین ماحولیاتی خطرات کو اجاگر کیا۔

ڈاکٹرضیغم عباس نے کہا کہ راول جھیل میں آلودگی کا مسلسل داخل ہونا بنیادی مسئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن شیری رحمان متعدد بار جھیل کے بالائی حصے میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (STP) کی تنصیب کا مطالبہ کر چکی ہیں تاکہ آلودہ پانی کو جھیل میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ راول جھیل میں مچھلیوں کی ہلاکت کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ 2024 میں پانی کی سطح میں کمی اور بغیر ٹریٹمنٹ فضلے کے باعث بڑے پیمانے پر مچھلیاں ہلاک ہوئی تھیں، جبکہ 2023 میں بعض عناصر کو جھیل کے قریب زہریلے کیمیکلز استعمال کرتے ہوئے بھی پکڑا گیا تھا۔

ڈاکٹر ضیغم عباس نے بتایا کہ حکومت نے جھیل کے بالائی حصے میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔

سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی لاگت 6.07 ارب روپے ہے جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 449 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے کی تکمیل میں مزید وقت درکار ہوگا۔

متعلقہ خبریں