مریم نواز شریف کا صاف پانی منصوبہ

پنجاب میں گھر گھر صاف اورمحفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کی جانب بڑا قدم

تحریر: نعیم ثاقؔب

پنجاب میں صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت کے اہم عوامی فلاحی اقدامات میں شامل ہوگئی ہے۔ اگست 2026 کے دوران اس منصوبے پر ہونے والی پیش رفت نے اسے پنجاب حکومت کے نمایاں ترقیاتی اور عوامی سہولت کے منصوبوں میں شامل کر دیا۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد صرف نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس تعمیر کرنا نہیں بلکہ ایسے علاقوں تک بھی صاف پانی پہنچانا ہے جہاں شہری آج بھی دور دراز مقامات سے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

ماہ اگست میں مریم نواز شریف نے صاف پانی کے منصوبوں کے جائزے کے دوران صوبے بھر میں 1,886 واٹر فلٹریشن پلانٹس کے منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اسی اجلاس میں 670 صاف پانی کی بوتل بندی کے مراکز قائم کرنے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکومت کے مطابق ان منصوبوں کے ذریعے صاف پانی کو فلٹریشن پلانٹس، بوتل بند پانی اور دیگر ذرائع سے عوام تک پہنچایا جائے گا۔ اس منصوبے کا ایک نمایاں پہلو ان گھرانوں کو ترجیح دینا ہے جہاں محفوظ پانی کے ذرائع دستیاب نہیں۔ مریم نواز شریف نے کم آمدنی والے گھرانوں اور پانی کی قلت کا شکار علاقوں تک صاف پانی پہنچانے کے لیے پائپ لائن کے ذریعے گھروں کو پانی فراہم کرنے کے پائلٹ منصوبے کی بھی منظوری اور تیاری کی ہدایت کی۔ راجن پور، لاہور، فیصل آباد، چکوال، راولپنڈی، مری اور کوٹلی ستیاں سمیت مختلف علاقوں کو اس منصوبے میں شامل کیا گیا۔18اگست کو وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے جائزہ اجلاس میں منصوبے کی مزید تفصیلات سامنے آئیں۔ حکام نے بتایا کہ نو اضلاع میں 2,778 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ راجن پور اور رحیم یار خان میں 702 منصوبوں میں سے 570 مکمل ہوچکے تھے، جبکہ تلہ گنگ، جہلم، راولپنڈی، اٹک، مری اور چکوال میں 1,180 میں سے 902 فلٹریشن پلانٹس مکمل کیے جاچکے تھے۔ بہاولپور اور بہاولنگر میں 892 میں سے 749 مقامات پر کام مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی۔ جہاں زیرِ زمین پانی کھارا یا ناقابلِ استعمال ہے وہاں صرف عام فلٹریشن پر انحصار نہیں کیا جا رہا بلکہ ریورس اوسموسس، الٹرا فلٹریشن اور ملٹی میڈیا فلٹریشن جیسے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مختلف اضلاع میں سیکڑوں آر او اور یو ایف پلانٹس بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

2,778 نئے فلٹریشن پلانٹس، 736 غیر فعال پلانٹس کی بحالی، 670 بوتل بندی مراکز کی تجویز، پائپ لائن کے ذریعے گھروں تک پانی پہنچانے کا پائلٹ منصوبہ اور کھارے پانی والے علاقوں میں جدید پیوریفیکیشن سسٹم اس پروگرام کے اہم اجزا ہیں۔

مریم نواز شریف کی حکومت نے نئے پلانٹس کے ساتھ پہلے سے موجود سہولتوں کو فعال بنانے پر بھی توجہ دی ہے۔ اگست میں وزیراعلیٰ نے 736 غیر فعال واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ پہلے سے موجود سرکاری انفراسٹرکچر کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر عوام کو فوری فائدہ پہنچایا جائے۔ منصوبے میں ان علاقوں کے لیے بوتل بند صاف پانی کی فراہمی بھی شامل ہے جہاں فوری طور پر پائپ لائن یا فلٹریشن پلانٹ کے ذریعے پانی پہنچانا ممکن نہیں۔ اگست کی بریفنگ کے مطابق رحیم یار خان، بہاولپور، خوشاب اور ڈیرہ غازی خان میں بوتل بندی کے منصوبوں پر کام جاری تھا۔ ہر بوتل بندی مرکز روزانہ تقریباً 2,500 بوتلیں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایک پلانٹ فی گھنٹہ 5,000 لیٹر صاف پانی تیار کرسکتا ہے۔

مریم نواز شریف نے بوتل بند پانی پر صارفین سے فیس لینے کی ابتدائی تجویز بھی مسترد کرتے ہوئے ایسے علاقوں میں مفت صاف پانی پہنچانے کی ہدایت کی جہاں پینے کا محفوظ پانی دستیاب نہیں۔ مریم نواز شریف کی حکومت کا صاف پانی منصوبہ پنجاب میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے ایک بڑے پروگرام کی شکل اختیار کر رہا ہے۔  2,778 نئے فلٹریشن پلانٹس، 736 غیر فعال پلانٹس کی بحالی، 670 بوتل بندی مراکز کی تجویز، پائپ لائن کے ذریعے گھروں تک پانی پہنچانے کا پائلٹ منصوبہ اور کھارے پانی والے علاقوں میں جدید پیوریفیکیشن سسٹم اس پروگرام کے اہم اجزا ہیں۔ اس منصوبے پر تیزی سے ہونے والی پیش رفت کو مریم نواز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے ایک نمایاں عوامی فلاحی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم منصوبے کے دیرپا نتائج کا انحصار بروقت تکمیل، پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی اور فلٹریشن پلانٹس کی مؤثر دیکھ بھال پر ہوگا۔

متعلقہ خبریں