معاشرتی اقدار اور نوجوان نسل

تحریر؛ عقیل اختر

کسی قوم کا سب سے خطرناک وقت وہ نہیں ہوتا جب اس کے پاس وسائل کم ہوں، بلکہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس کے اصول کمزور پڑ جائیں۔ جب سچ بولنے والا مشکل میں آ جائے اور جھوٹ بولنے والا کامیاب نظر آنے لگے، جب محنت کرنے والا راستہ تلاش کرتا رہ جائے اور سفارش رکھنے والا منزل پر پہنچ جائے، جب ایمانداری کو سادگی اور چالاکی کو کامیابی سمجھا جانے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف حالات کا نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادوں کا ہے۔آج ہمارا معاشرہ ایسے کئی تضادات کا شکار ہے جنہیں ہم دیکھتے بھی ہیں، محسوس بھی کرتے ہیں، مگر اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم انصاف کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ناانصافی کو برداشت کرتے ہیں، ہم میرٹ کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے فائدے کے لیے سفارش تلاش کرتے ہیں، ہم قانون کی عزت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن قانون کو کمزور سمجھ کر توڑنے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہی دوہرا معیار معاشرتی زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔پاکستان میں ایک عام نوجوان کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ اسے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے لیے صرف محنت کافی نہیں لگتی۔ اسے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں اس کا حق کسی سفارش، کسی تعلق یا کسی طاقتور شخص کی مداخلت سے نہ چھین لیا جائے۔ برسوں کی محنت کے بعد جب ایک قابل انسان اپنے سے کم اہل شخص کو صرف تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھتے دیکھتا ہے تو صرف ایک فرد مایوس نہیں ہوتا بلکہ پورے نظام پر اس کا اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی طاقت میرٹ سے حاصل کی۔ وہاں عہدے قابلیت، تجربے اور اہلیت کی بنیاد پر ملتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ نااہل شخص کو اختیار دینا صرف ایک غلط فیصلہ نہیں بلکہ قومی نقصان ہے۔ لیکن جہاں میرٹ کمزور ہو جائے وہاں ادارے بھی کمزور ہونے لگتے ہیں، کیونکہ فیصلے قابلیت سے نہیں بلکہ تعلقات اور مفادات سے ہونے لگتے ہیں۔ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد بدل گیا ہے۔ تعلیم جو انسان کو سوچنے، سمجھنے اور بہتر کردار بنانے کا ذریعہ تھی، اب اکثر صرف نوکری، عہدے اور معاشی فائدے تک محدود ہو گئی ہے۔ طالب علم علم کے بجائے صرف نمبر، ڈگری اور کامیابی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔امتحانات میں نقل، سفارش اور غیر منصفانہ طریقوں کا بڑھنا دراصل ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب ایک نوجوان یہ سیکھتا ہے کہ محنت کے بجائے غلط راستہ اختیار کر کے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے تو یہ صرف ایک امتحان کی شکست نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کی شکست ہوتی ہے۔آج ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم نے کامیابی کا معیار کیا بنا لیا ہے کیا صرف زیادہ دولت رکھنے والا شخص کامیاب ہے کیا بڑا عہدہ رکھنے والا لازماً قابل اور قابل احترام ہے اگر دولت کا راستہ دوسروں کا حق مار کر، دھوکے سے یا بدعنوانی سے حاصل کیا گیا ہو تو کیا وہ حقیقی کامیابی کہلا سکتی ہیبدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کئی مرتبہ کردار سے زیادہ حیثیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انسان کی عزت اس کے اخلاق، علم اور کردار سے نہیں بلکہ اس کے عہدے، گاڑی اور ظاہری شان و شوکت سے ناپی جانے لگی ہے۔ یہ سوچ آہستہ آہستہ معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔اس سب کے درمیان سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ عام عوام کو اکثر خوبصورت الفاظ، بڑے دعوؤں اور جذباتی نعروں کے ذریعے امید دلائی جاتی ہے، لیکن ان کی عملی زندگی کے مسائل وہیں کھڑے رہتے ہیں۔ عوام کو ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں، خوشحالی کے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر ایک عام شہری آج بھی مہنگائی، بے روزگاری، کمزور انصاف اور بنیادی سہولیات کے مسائل سے لڑ رہا ہے۔عوام صرف تقریریں نہیں چاہتے، وہ نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں وعدوں کی فہرست نہیں بلکہ اپنی زندگی میں بہتری چاہیے۔ ایک مزدور کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کتنے منصوبوں کا اعلان ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا۔ ایک طالب علم کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے تعلیمی دعوے کیے گئے، بلکہ یہ ہے کہ اسے اپنی قابلیت کے مطابق موقع ملے گا یا نہیں۔لیکن مسئلہ صرف حکمران طبقے یا اداروں تک محدود نہیں۔ ایک معاشرہ اپنے عام افراد کے رویوں سے بھی بنتا ہے۔ اگر ہم خود چھوٹے فائدے کے لیے اصول توڑنے لگیں، اپنے کام کے لیے سفارش کو جائز سمجھیں، رشوت کو مجبوری کا نام دے کر قبول کر لیں اور غلط کو صرف اس لیے برداشت کریں کہ اس سے ہمیں فائدہ ہو رہا ہے تو پھر تبدیلی کا مطالبہ کمزور ہو جاتا ہے۔قومیں صرف حکومتیں بدلنے سے نہیں بدلیں گی، قومیں اپنی سوچ بدلنے سے بدلتی ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم وقتی فائدے کے لیے غلط راستے کو ترجیح دیں گے یا آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر نظام بنانے کی کوشش کریں گے۔پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک فرد، ایک ادارے یا ایک حکومت کے پاس نہیں۔ اس کے لیے اجتماعی شعور، مضبوط ادارے، آزاد احتساب، معیاری تعلیم اور سب سے بڑھ کر کردار کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ کامیابی ہر قیمت پر حاصل کرو، بلکہ یہ سکھانا چاہیے کہ کامیابی وہ ہے جو عزت، محنت اور دیانت کے ساتھ حاصل ہو۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں غریب کا بیٹا بھی اپنی قابلیت سے آگے بڑھ سکے، جہاں عہدہ تعلقات سے نہیں بلکہ صلاحیت سے ملے، اور جہاں سچ بولنے والا کمزور نہیں بلکہ قابل احترام سمجھا جائے۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جہاں جھوٹ کو حکمت، بدعنوانی کو ذہانت اور نااہلی کو طاقت سمجھ لیا جائے۔اب سوال یہ نہیں کہ ہمارا مسئلہ کیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اس مسئلے کو نظر انداز کرتے رہیں گیقومیں تب بدلتی ہیں جب وہ اپنے زخم چھپانے کے بجائے ان کا علاج شروع کرتی ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی حقیقت کا سامنا نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی کہ جب معاشرہ زوال کا شکار تھا تو ہم خاموش کیوں رہے۔

متعلقہ خبریں