پنجاب میں تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات
تحریر: محمد نعیم ثاقب
مریم نواز حکومت اساتذہ کی کارکردگی سے لے کر نصاب کی تبدیلی جیسے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ تعلیمی ماحول اور طلبہ کی حقیقی استعداد بہتر بنانے کے چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہے۔\
پنجاب میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لیے وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے اساتذہ کی کارکردگی، طلبہ کے نتائج، نصاب میں تبدیلی اور اسکولوں کی نگرانی کو بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔حکومت کی توجہ ایک طرف تعلیمی نتائج کی بہتری اور اساتذہ کے احتساب پر ہے تو دوسری طرف جدید نصاب، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور طلبہ کی ذہنی و تعلیمی ضروریات کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پالیسی فیصلے کلاس روم کی سطح پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
ستمبر میں حکومت نے نویں جماعت کے امتحانی نتائج میں 20 فیصد سے کم کامیابی والے اسکولوں اور ان سے وابستہ اساتذہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور کارروائی کی ہدایت کی۔ اساتذہ کی کارکردگی کو طلبہ کے نتائج سے منسلک کرنے کا مقصد تدریسی معیار بہتر بنانا اور تعلیمی اداروں میں جواب دہی کو فروغ دینا ہے۔حکومت نے ماہانہ اور سالانہ امتحانات، کمزور طلبہ کے لیے شام کے اوقات میں اضافی تدریسی کلاسوں، اور اسکولوں کی نگرانی کے لیے یونیفائیڈ مانیٹرنگ ایپ کے اقدامات بھی متعارف کرانے یا منظور کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی خالی ہیڈ ٹیچر کی آسامیوں کو 45 دن میں پُر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی، تاکہ اسکولوں میں انتظامی نگرانی اور قیادت کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ تاہم طلبہ کے نتائج کو صرف استاد کی کارکردگی کا پیمانہ قرار دینا کافی نہیں۔ غیر حاضر طلبہ، اساتذہ کی کمی، تدریسی سہولتوں کا فقدان، گھریلو معاشی حالات اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی بھی نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے احتساب کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو ناقص کارکردگی کی نشاندہی کے ساتھ اس کی وجوہات بھی سامنے لائے اور بہتری کے لیے عملی مدد فراہم کرے۔
پنجاب میں تعلیمی اصلاحات کی کامیابی کا انحصار احتساب کے ساتھ اساتذہ کی تربیت اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔
ستمبر کے آخری ہفتے میں نئے اسکول نصاب کی منظوری کو بھی اصلاحاتی اقدامات کا حصہ بنایا گیا۔ انگریزی، ریاضی، سماجی علوم، اردو اور ابتدائی بچپن کی تعلیم سے متعلق نصابی تبدیلیوں کے تحت کتابوں کا حجم تقریباً 25 فیصد کم کرنے اور غیر ضروری رٹّے کے بجائے فہم، سوچنے کی صلاحیت اور عملی سیکھنے کو فروغ دینے کا ہدف رکھا گیا۔ کتابوں میں کیو آر کوڈز کے ذریعے ویڈیو اسباق تک رسائی کی تجویز بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اس کے علاوہ جماعت اول سے بارہویں تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق نصاب تیار کرنے کی ہدایات جدید ٹیکنالوجی سے طلبہ کی واقفیت بڑھانے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن ڈیجیٹل تعلیم کی افادیت کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں میں انٹرنیٹ، آلات، بجلی اور تربیت یافتہ اساتذہ کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ بصورت دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی سہولتیں تمام طلبہ کو یکساں فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔اس طرح کی تعلیمی اصلاحات صرف امتحانات اور نگرانی تک محدود نہیں رہ سکتیں۔ حکومت کی جانب سے اساتذہ کی تربیت کے لیے مخصوص دن مختص کرنے، پرائمری تعلیم اور سائنس لیبارٹریوں پر توجہ بڑھانے، اور طلبہ و اساتذہ کے لیے ذہنی صحت سے متعلق تربیت اور آن لائن مشاورت کی تجاویز بھی اہم ہیں۔جسمانی سزا کی روک تھام کے لیے متبادل تادیبی طریقوں، مثلاً ’ڈسپلن کارنرز‘، پر غور اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ اسکولوں میں نظم و ضبط کے ساتھ بچوں کے وقار اور تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ایک محفوظ اور معاون تعلیمی ماحول بچوں کی حاضری، اعتماد اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
جدید نصاب اور ڈیجیٹل تعلیم اسی وقت مؤثر ہوں گے جب ہر بچے کو معیاری تعلیم اور سیکھنے کے مساوی مواقع میسر آئیں۔
پنجاب کے تعلیمی شعبے میں ان اقدامات کا اصل امتحان ان کے نتائج ہوں گے۔ مانیٹرنگ ایپ، امتحانات اور کارکردگی کے اعدادوشمار اسی وقت بامعنی ثابت ہوں گے جب ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کمزور اسکولوں کو اضافی اساتذہ، تربیت، تعلیمی مواد اور ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حکومت اصلاحات کی پیش رفت، طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت، اساتذہ کی تربیت اوراسکولوں کی سہولتوں سے متعلق قابلِ پیمائش معلومات باقاعدگی سے عوام کے سامنے پیش کرے۔ احتساب کا مقصد محض سزا دینا نہیں بلکہ بہتری کا راستہ پیدا کرنا ہونا چاہیے۔تعلیم کے شعبے میں پائیدار تبدیلی تب آئے گی جب بہتر نتائج کا دباؤ مؤثر تدریس، مناسب وسائل، تربیت یافتہ اساتذہ اور بچوں کے لیے سازگار ماحول کے ساتھ جڑا ہو۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر پنجاب کا تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈا اپنی افادیت ثابت کر سکتا ہے۔