پاکستانی سیا ست اور عوام کا مستقبل

تحریر: عقیل اختر

پاکستان اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور حساس دور سے گزر رہا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی کشمکش اب صرف حکومت اور اپوزیشن کے اختلاف تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ریاستی اداروں، عدلیہ، انتخابات، معیشت، خارجہ تعلقات اور عوامی اعتماد جیسے بنیادی معاملات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک طرف حکومت اپنی آئینی حیثیت اور ریاستی رٹ قائم رکھنے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اور اس کے حامی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ سیاسی عمل کو محدود کیا جا رہا ہے، اداروں کو ایک خاص سمت میں استعمال کیا جا رہا ہے اور عوام کے ووٹ کے احترام کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے۔اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا اثر عام پاکستانی پر پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں، ٹیکسوں کے بوجھ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عوام کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سیاسی لڑائی کب ختم ہوگی اور ان کے اصل مسائل پر توجہ کب دی جائے گی۔پاکستان میں سیاسی اختلاف ہمیشہ موجود رہا ہے، لیکن موجودہ دور کا بحران اس لیے مختلف ہے کہ اس میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے کردار پر بھی شدید بحث ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کے خلاف ایک منظم سیاسی حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے گئے، اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور عمران خان کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق ہیں اور ریاست کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتی۔یہ اختلاف اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب 2024 کے عام انتخابات کے نتائج پر سوالات اٹھائے گئے۔ انتخابات کے بعد فارم 45 اور فارم 47 کے معاملات، نتائج کے اعلان میں تاخیر اور مختلف حلقوں کے تنازعات نے سیاسی ماحول کو مزید متنازع بنا دیا۔ پی ٹی آئی اور دیگر حلقوں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا تھا کہ انتخابی تنازعات کے لیے آئینی اور قانونی راستے موجود ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ جمہوری نظام صرف انتخابات کرانے کا نام نہیں بلکہ انتخابات کے نتائج پر عوام کے اعتماد کا نام بھی ہے۔ اگر ایک بڑا سیاسی طبقہ یہ محسوس کرے کہ اس کے ووٹ کو مکمل تحفظ نہیں ملا تو سیاسی استحکام متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس کے خلاف ہر اعتراض سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے لیے ہے تو فریقین کے درمیان فاصلے مزید بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں انتخابات اور احتساب کے معاملات پر اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتیں یہ شکایت کرتی رہی ہیں کہ احتساب کا عمل یکساں نہیں رہا۔ کبھی ایک جماعت اقتدار میں ہوتی ہے اور مخالفین پر الزامات لگاتی ہے، پھر وقت بدلنے پر وہی جماعت خود احتساب کے عمل پر سوالات اٹھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ایک بڑے حصے میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ملک میں ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے قانون کا معیار ایک ہو۔عمران خان کے مقدمات بھی اسی وسیع سیاسی تنازع کا حصہ بن چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں شفاف ٹرائل کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔ پارٹی کا مطالبہ رہا ہے کہ مقدمات کھلی عدالت میں چلائے جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات قانونی بنیادوں پر قائم کیے گئے اور عدالتوں نے قانون کے مطابق فیصلے کیے۔دنیا بھر میں انصاف کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی بھی ملزم کو دفاع کا حق حاصل ہو، اسے اپنے وکلا سے مشاورت کا موقع ملے، گواہوں اور شواہد کو جانچنے کا موقع دیا جائے اور فیصلہ شفاف طریقے سے سامنے آئے۔ بڑے سیاسی مقدمات میں یہ اصول مزید اہم ہو جاتے ہیں کیونکہ ایسے فیصلے صرف ایک فرد کی زندگی نہیں بلکہ پورے سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔9 مئی کے واقعات بھی پاکستان کی موجودہ سیاست کا ایک انتہائی حساس معاملہ ہیں۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملے اور توڑ پھوڑ ناقابل قبول تھے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان واقعات کی مکمل اور غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے۔یہاں بنیادی سوال یہی ہے کہ بڑے قومی واقعات پر عوام کا اعتماد کیسے بحال کیا جائے۔ اگر تحقیقات پر ہی سوالات اٹھنے لگیں تو تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے۔ شفاف تحقیقات اور قابل اعتماد طریقہ…

متعلقہ خبریں