!پیپلز پارٹی کا انداز حکمرانی اور کراچی کا سوال
کراچی کو سیاسی کشمکش نہیں، مؤثر حکومت، بااختیار بلدیاتی ادارے اور ترقیاتی نتائج درکار ہیں۔
تحریر: شہریار جنجوعہ
کراچی پاکستان کا معاشی مرکز اور سندھ کی سب سے بڑی شہری آبادی ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے یہ شہر بنیادی شہری سہولتوں، امن و امان، ٹریفک، صفائی، پانی، نکاسی آب، تجاوزات اور ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتاری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف وسائل کی کمی کا مسئلہ ہے یا اندازحکمرانی، ترجیحات اور ادارہ جاتی انتظام کا بھی مسئلہ ہے۔ سندھ میں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبے میں پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں کا وسیع اختیار حاصل ہے۔ اس لیے کراچی کی مسلسل بگڑتی صورت حال کو محض وفاقی حکومت، بلدیاتی اداروں یا مختلف اداروں کے باہمی اختلافات سے منسوب کرنا کافی نہیں۔ صوبائی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری کا جائزہ لینا ہوگا۔
کراچی کو پانی فراہم کرنے والا کے فور منصوبہ اس تاخیر کی نمایاں مثال ہے۔ برسوں پہلے شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب بھی مکمل نہیں ہوسکا اور موجودہ اندازوں کے مطابق اس کے پہلے مرحلے کی تکمیل 2029ء تک متوقع ہے۔ جس شہر کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہو، وہاں پانی جیسے بنیادی مسئلے کا اتنے طویل عرصے تک حل طلب رہنا حکمرانی اور منصوبہ بندی پر سوال اٹھاتا ہے۔اسی طرح ییلو لائن بی آرٹی بس منصوبہ بھی مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہوسکا ۔ شہر میں مختلف زیر تعمیر راستے، پل اور انڈر پاس بھی شہریوں کے لیے طویل عرصے تک مشکلات کا سبب بنتے رہے ہیں۔ کریم آباد انڈر پاس کی تکمیل میں تاخیر بھی اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔ صفائی کا مسئلہ بھی کراچی کی انتظامی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔ عالمی بینک کے تعاون سے جاری SWEEPپراجیکٹ میں تاخیر، معاہدوں کے انتظام اور ادارہ جاتی صلاحیت کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سندھ سولر انرجی اور KWSSIP سمیت بعض دیگرسرکاری منصوبوں میں بھی خریداری کے طریقہ کار اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اگرچہ ایسے معاملات حتمی تحقیقات اور فیصلوں سے مشروط ہیں، لیکن عوامی منصوبوں میں شفافیت اور جواب دہی بنیادی ضرورت ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر کو مؤثر شہری انتظام کے لیے بااختیار اور مالی طور پر مضبوط بلدیاتی حکومت درکار ہے۔
امن و امان کی صورت حال اپنی جگہ تشویش ناک ہے۔ شہریوں کو موبائل فون، موٹر سائیکل اور گاڑیوں سے محرومی سمیت جرائم کا سامنا ہے۔ میر رضا کے حالیہ قتل کیس کے معاملے نے پولیس تفتیش، فرانزک نظام اور تحقیقات کے طریقۂ کار پر بھی بہت سارے سوالات پیدا کیے۔ٹریفک کا بے ہنگم نظام، قانون کی خلاف ورزی، سڑکوں پر تجاوزات اور محلہ جاتی گلیوں کی خراب حالت شہری زندگی کو مزید مشکل بناتی ہے۔ تجاوزات کے خلاف وقتی کارروائیاں مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ جب تک مستقل نگرانی، قانون پر یکساں عمل اور مؤثر شہری منصوبہ بندی نہیں ہوگی، تجاوزات دوبارہ قائم ہوتی رہیں گی۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری بھی حکمرانی کا اہم امتحان ہے۔ بارش سے پہلے انتظامات کے دعوے ہر سال کیے جاتے ہیں، لیکن بارش ہوتے ہی کئی علاقوں میں پانی جمع ہونا اور نکاسی آب کا ناکام نظام سامنے آجاتا ہے۔ گل پلازہ آتش زدگی نے بھی عمارتوں کی حفاظت، ہنگامی اخراج، آگ بجھانے کے انتظامات اور ذمہ دار اداروں کی نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کیے۔
اس پورے مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کراچی کو مؤثر شہری انتظام کے لیے بااختیار اور مالی طور پر مضبوط بلدیاتی حکومت درکار ہے۔ صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بلدیاتی اختیارات پر اختلاف نے شہری انتظام کو بھی سیاسی کشمکش بنا دیا ہے۔
روزگار اور معاشی ترقی کے میدان میں بھی کراچی اپنی پوری صلاحیت کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکا۔ صنعتی سرگرمی، چھوٹے کاروبار، نوجوانوں کے لیے ہنر اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے بجائے اگر سرکاری ملازمتیں سیاسی، لسانی یا ذاتی وابستگیوں سے جوڑی جائیں تو اس سے میرٹ اور عوامی اعتماد دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
یہ تمام مسائل ایک بڑے سیاسی سوال کو جنم دیتے ہیں۔ جب شہری یہ محسوس کریں کہ ان کے مسائل طویل عرصے تک حل نہیں ہورہے تو نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹوں کا مطالبہ زور پکڑ تا ہے۔ سندھ کی تقسیم کے خلاف سیاسی مؤقف اپنی جگہ، لیکن بہتر حکمرانی کا تقاضا یہ ہے کہ صوبائی حکومت شہریوں کو عملی طور پر دکھائے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کے اندر بھی مؤثر، شفاف اور جواب دہ حکومت فراہم کی جاسکتی ہے۔
کراچی کے مسائل پر عملی بہتری پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے لیے شہری اعتماد بحال کرنے کا بہترین موقع ہے اور سندھ کو نئے نقشے سے پہلے ایک بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔