پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کا نیا ماڈل
تحریر: محمد یسین ظفر
سڑکوں سے ہسپتال، ہاسٹل، سیاحت، پانی اور ویسٹ مینجمنٹ تک نجی شعبے کی شمولیت کا دائرہ وسیع
پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی سہولتوں کی فراہمی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو ایک نئے ترقیاتی ماڈل کے طور پر آگے بڑھایا جارہا ہے۔ پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے قیام کے بعد صوبائی حکومت نے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، سیاحت، پانی، صفائی، تعلیم، صحت اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں متعدد منصوبوں کو نجی شعبے کے اشتراک سے مکمل کرنے کا عمل تیز کردیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت پانچ اہم سڑکوں کے منصوبوں کا ڈیجیٹل افتتاح کیا، جس کے بعد ان سڑکوں کا انتظام و انصرام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نجی شعبے کو منتقل کردیا گیا ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق ان منصوبوں سے پنجاب حکومت کو تقریباً 22 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا۔
PPP ماڈل کے تحت شامل کیے جانے والے منصوبوں میں مریدکے–نارووال 80 کلومیٹر، شکرگڑھ–نارووال 33 کلومیٹر، فیصل آباد رنگ روڈ 97 کلومیٹر، فیصل آباد–ساہیانوالہ 52 کلومیٹر اور فیصل آباد–سمندری–رجانہ 56 کلومیٹر سڑکیں شامل ہیں۔ان سڑکوں پر جدید الیکٹرانک ٹول پلازے قائم کیے جائیں گے۔ نجی کنٹریکٹر سات سال تک ٹول وصولی کے ساتھ متعلقہ سڑکوں کی دیکھ بھال، تعمیر و مرمت کا بھی ذمہ دار ہوگا۔یہ ماڈل اس لحاظ سے اہم ہے کہ حکومت بنیادی انفراسٹرکچر کی ملکیت اور نگرانی برقرار رکھتے ہوئے تعمیر، آپریشن، دیکھ بھال اور بعض خدمات کی فراہمی میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور انتظامی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔
حکومت نے مزید چار سڑکوں کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں بہاولپور–یزمان 42 کلومیٹر، یزمان–احمد پور شرقیہ 43 کلومیٹر، رائیونڈ–چھانگا مانگا 28 کلومیٹر اور گجومتہ–قصور 26 کلومیٹر سڑکیں شامل ہیں۔
پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق اتھارٹی کے تحت منصوبوں کی پراسیسنگ کا دورانیہ دو سال سے کم کرکے تقریباً چھ ماہ کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد منصوبوں کی منظوری اور نجی سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔پنجاب حکومت کی یہ پی پی پی حکمت عملی صرف سڑکوں تک محدود نہیں۔ بلکہ ہسپتال، ہاسٹل، پارکس، اسپورٹس گراؤنڈز، ویسٹ ٹو انرجی، پانی کی فراہمی، ری سائیکلنگ، پارکنگ پلازوں اور سیاحت کے منصوبے بھی اس ماڈل کا حصہ بنائے جارہے ہیں۔
صنعتی علاقوں میں Effluent Treatment Plants قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جہاں صنعتی فضلے اور زہریلے پانی کو صاف کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔ اسی طرح سبزی اور فروٹ منڈیوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے Black Soldier Fly Larvae ٹیکنالوجی پر مبنی پلانٹس لگانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
سیاحت کے شعبے میں زرافہ کیفے، فوڈ اسٹریٹس اور دیگر سیاحتی منصوبوں کو PPP موڈ کے تحت مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ لاہور میں ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت ٹائم ٹریول پارک کے قیام کا منصوبہ بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔
PPP کے تحت بعض ایسے منصوبے بھی سامنے آئے ہیں جن کا براہ راست تعلق مقامی رابطہ کاری اور شہری سہولتوں سے ہے۔ ساہوکا پتن میں دریائے ستلج پر پل تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائے گا۔
چکوال اور قصور میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کے منصوبوں کو بھی PPP ماڈل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا، جس سے پانی اور صفائی کی خدمات میں نجی شعبے کی شمولیت کی راہ ہموار ہوگی۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی PPP کے دائرہ کار کو بڑھانے کی تجویز ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سمیت 28 سرکاری جامعات میں طالبات اور طلبہ کے لیے ہاسٹلز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ تین میڈیکل کالجز میں بھی ہاسٹلز PPP ماڈل کے تحت تعمیر کیے جانے ہیں۔
صوبے بھر میں ورکنگ ویمن کے لیے 14 ہاسٹلز تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں نرسنگ ہاسٹل اور ساہیوال کے فریدیہ پارک کے آپریشن و ڈویلپمنٹ کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی تجویز ہے۔
پنجاب میں 100 اسپورٹس گراؤنڈز اور دیگر کھیلوں کی سہولتوں کی مینجمنٹ بھی PPP کے ذریعے کرنے کا منصوبہ ہے۔ فیصل آباد میں جدید ٹرک ٹرمینل کے قیام اور بادامی باغ لاری اڈہ لاہور میں پارکنگ پلازہ اور ملٹی ماڈل کمرشل سہولت کی تعمیر بھی مجوزہ منصوبوں میں شامل ہے۔
اسی طرح پہلی مرتبہ مویشیوں میں منہ کھر کی بیماری سے تحفظ کے لیے ویکسین پروٹیکشن پلانٹ کے قیام کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
PPP ماڈل کو صرف بڑے صوبائی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی سطح تک لے جانے کے لیے بھی انتظام کیا گیا ہے۔ کمشنر کی سربراہی میں قائم ڈویژنل PPP ورکنگ پارٹی کو 500 ملین روپے تک کے منصوبوں کی منظوری اور ان پر عملدرآمد کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔یہ اقدام اس لحاظ سے اہم ہے کہ مقامی ضروریات سے متعلق نسبتاً چھوٹے منصوبوں کو طویل صوبائی منظوری کے عمل سے گزارنے کے بجائے ڈویژنل سطح پر آگے بڑھایا جاسکے گا۔
پنجاب میں PPP کا بڑھتا ہوا دائرہ ایک طرف حکومت کے لیے ترقیاتی اخراجات اور انتظامی بوجھ کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو دوسری جانب نجی شعبے کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ تاہم اس ماڈل کی کامیابی کا انحصار صرف منصوبوں کی تعداد پر نہیں بلکہ شفاف معاہدوں، مؤثر ریگولیشن، عوامی مفاد کے تحفظ، سروس کے معیار اور جوابدہی کے مضبوط نظام پر ہوگا۔بالخصوص سڑکوں، پانی، صحت، تعلیم اور شہری سہولتوں جیسے شعبوں میں نجی شراکت داری کے ساتھ یہ یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ خدمات کی فراہمی عوام کی استطاعت اور ضرورت کے مطابق رہے اور حکومتی نگرانی مؤثر انداز میں برقرار رہے۔
صوبائی وزیر مواصلات صہیب احمد بھرت، سیکرٹری خزانہ مجاہد شیر دل، سیکرٹری مواصلات راجہ جہانگیر انور اور سی ای او پنجاب پی پی پی اتھارٹی ڈاکٹر ذیشان حنیف سمیت متعلقہ حکام نے منصوبوں کی تیاری اور عملدرآمد کے لیے اقدامات کو آگے بڑھایا ہے۔
اگر یہ منصوبے شفافیت، مؤثر نگرانی اور مقررہ اہداف کے مطابق مکمل کیے جاتے ہیں تو پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ محض سڑکوں کی تعمیر یا ٹول وصولی کا ماڈل نہیں رہے گی بلکہ شہری خدمات، مقامی انفراسٹرکچر اور معاشی سرگرمیوں کی فراہمی کا ایک وسیع تر نظام بن سکتی ہے۔