سندھ میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی، 2026 میں اب تک صرف ایک کیس رپورٹ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے نتیجے میں 2026 میں اب تک پولیو کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، جبکہ ماحولیاتی نگرانی کے ذریعے وائرس کی گردش بھی چند ہائی رسک علاقوں تک محدود ہوتی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں پولیو کیسز کی تعداد 2024 میں 23 سے کم ہوکر 2025 میں 9 اور 2026 میں اب تک ایک رہ گئی ہے۔ رواں سال واحد کیس 10 فروری کو سجاول سے رپورٹ ہوا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مثبت ماحولیاتی نمونوں والے مقامات کی تعداد مارچ 2025 میں 29 کی بلند ترین سطح سے کم ہوکر اگست 2026 میں 5 رہ گئی۔ کراچی سے باہر نگرانی کے تمام 14 مقامات منفی ہیں، جبکہ کراچی کے 15 میں سے 6 مقامات اب بھی مثبت ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے تاہم پولیو کا ایک کیس بھی قابل قبول نہیں، اس لیے ویکسین سے محروم بچوں، ویکسین سے انکار کرنے والے والدین اور انتظامی خامیوں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس اختیار کی جائے۔
انہوں نے کراچی سمیت دیگر ہائی رسک علاقوں میں ویکسینیشن اور نگرانی تیز کرنے، کراچی ایکشن پلان 2.0 پر مکمل عملدرآمد، نقل مکانی کرنے والی آبادیوں کی نگرانی اور معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کی کوریج بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں 21 سے 27 ستمبر تک ہونے والی ذیلی قومی حفاظتی ٹیکہ جات مہم کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مہم کے دوران سندھ میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً ایک کروڑ بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی، جبکہ 80 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے۔ سکیورٹی کے لیے 26 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے فرنٹ لائن ورکرز، اساتذہ، کمیونٹی موبلائزرز اور محکمہ صحت کے عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک تمام متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو اپنی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔