’بااختیار بلدیاتی نظام، نئے انتظامی یونٹس کا قیام، ترقی یافتہ اورمستحکم پاکستان‘ کے عنوان سے مقامی ہوٹل میں مذاکرہ

کراچی : مقررین نے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام اور آئینی طور پر بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ اور بگڑتے ہوئے طرز حکمرانی کے مسائل سے نمٹنے میں ناکام ہوچکا ہے۔

مقامی ہوٹل میں ہفتے کے روز گریجویٹ فورم پاکستان کے زیر اہتمام اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کے تعاون سے منعقدہ پروگرام ’بااختیار بلدیاتی نظام، نئے انتظامی یونٹس کا قیام، ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان‘ میں سیاسی رہنماؤں، کراچی کے سابق میئرز، کاروباری نمائندوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

مقررین نے کہا کہ مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام وفاق یا قومی یکجہتی کے لیے خطرہ نہیں بلکہ بہتر انتظامی اور عوامی خدمات کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم اور ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہری سندھ کے لیے الگ صوبے یا انتظامی یونٹ کا مطالبہ ان کی جماعت کے قیام سے بھی پہلے موجود تھا اور اس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا نہیں بلکہ بہتر انتظامی یونٹس تشکیل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ناقابل تقسیم اکائی صرف ہمارا وطن پاکستان ہے‘، جبکہ صوبوں کی انتظامی بنیادوں پر ازسرنو تشکیل کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے شہری سندھ کے لیے الگ انتظامی یونٹ کے مطالبے کو ملک کے قدیم ترین مطالبات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے کو طویل عرصے سے سیاسی اور معاشی محرومی کا سامنا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ میں شفاف مردم شماری کرائی جائے تو پیپلز پارٹی خود نئے صوبوں کا مطالبہ کرے گی۔ انہوں نے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کرنے والے علاقوں میں ریفرنڈم کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ موجودہ چار صوبوں کا نظام سیاسی جمود کو برقرار رکھنے اور اختیارات چند خاندانوں تک محدود کرنے کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے سندھ کو متعدد انتظامی خطوں میں تقسیم کرنے اور کراچی کو خصوصی انتظامی حیثیت دینے کی تجویز پیش کی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عوام کو معاشی، سیاسی اور فیصلہ سازی میں حقیقی خودمختاری حاصل نہیں۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم نے صوبوں کو اختیارات تو دیے، تاہم ان اختیارات کو مؤثر انداز میں نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے اس معاملے پر وسیع قومی بحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے خواہش مند علاقوں میں ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے معلوم کی جاسکتی ہے۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ اور عوام پاکستان کے سینئر رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک کے سامنے بنیادی طور پر کئی راستے ہیں، جن میں موجودہ نظام کو جاری رکھنا، بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانا یا نئے انتظامی یونٹس تشکیل دینا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بارہا حقیقی معنوں میں خودمختار بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بلدیاتی حکومت کا نظام ایک اچھا آپشن ہے، لیکن موجودہ نظام کے تحت اسے مؤثر انداز میں نافذ کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کراچی کو کراچی چلانے دیں، لاڑکانہ کو لاڑکانہ اور اسی طرح لاہور، پشاور اور کوئٹہ کو بھی مقامی لوگ چلائیں۔‘

سینئر سیاست دان عرفان اللہ مروت نے کہا کہ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ کراچی کو موجودہ انتظامی طریقہ کار کے تحت مزید نہیں چلایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ جس انداز میں شہر کا انتظام چلایا جارہا ہے، اس طرح کراچی نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر منصوبہ بند آبادیاں شہر کے لیے سنگین چیلنج ہیں اور اسے ایسا انتظامی ڈھانچہ درکار ہے جو بڑھتی ہوئی بنیادی ڈھانچے اور شہری ضروریات سے نمٹ سکے۔

عرفان اللہ مروت نے کہا کہ ’صوبے وقت کی ضرورت ہیں، انہیں صوبے کہیں یا انتظامی یونٹس‘، تاہم کراچی کو ایک الگ انتظامی یونٹ ہونا چاہیے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف نے بھی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی مسئلہ اختیارات اور وسائل کو عوام تک منتقل کرنا ہے۔

امریکا کے بلدیاتی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں میونسپل ادارے اسکولوں، اسپتالوں، انفرااسٹرکچر اور پولیس سمیت متعدد شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بحث کا بنیادی مقصد اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، جبکہ چھوٹے انتظامی یونٹس حکومت کو زیادہ جوابدہ اور عوام کے لیے زیادہ قابل رسائی بنا سکتے ہیں۔

کاروباری رہنما عتیق میر نے کراچی کی معاشی اور شہری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی کی معیشت ڈوب چکی ہے‘ اور خوبصورت شہر کی شکل میں یہ ’ایک جنگل‘ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر انتظامی اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مقصد کے لیے جدوجہد کی گئی تو تاجر برادری بھی ساتھ دے گی، جبکہ ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں۔

سابق بیوروکریٹ اور وکیل شہاب امام نے کہا کہ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں عوام اپنے علاقوں سے متعلق فیصلے خود کرسکیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں بھرتیوں اور انتظامی تقرریوں کے معاملے میں مقامی نمائندگی کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور ٹیکسوں کے بکھرے ہوئے نظام پر بھی تنقید کی۔

شہاب امام نے کہا کہ ’گریڈ ایک سے پانچ تک کی ملازمتوں میں بھی کراچی کے لوگوں کو بھرتی نہیں کیا جارہا۔‘

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مقامی لوگوں کو ان کے جائز حقوق آئینی طور پر دیے جائیں اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں