کراچی سٹی کونسل میں پلاٹوں کے مبینہ غلط استعمال پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں ہاتھا پائی

کراچی: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے جمشید کوارٹرز میں واقع دو پلاٹوں کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے پر سٹی کونسل کا اجلاس ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید تلخ کلامی، نعرے بازی اور ہاتھا پائی ہوئی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے الزام عائد کیا کہ کے ایم سی نے پلاٹ نمبر 503 اور 504 الخدمت کو فلاحی مقاصد کے لیے دیے تھے، تاہم بعد ازاں ان اراضی کو جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نورِ حق کے لیے استعمال کیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے میئر کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس سرکاری ریکارڈ موجود ہے جو میئر کے دعوے کو غلط ثابت کرسکتا ہے۔

اس معاملے پر بحث کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی اور اپوزیشن ارکان نے میئر پر غلط بیان دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کردی، جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی جوابی نعرے لگائے۔ متعدد ارکان میئر کے ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور کشیدگی کے دوران دونوں جانب کے بعض ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی۔

ہاتھا پائی کے دوران پیپلز پارٹی کے سٹی کونسل رکن حیات خان، جنہیں پنچھی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔

ہنگامہ آرائی کے دوران میئر مرتضیٰ وہاب اجلاس کی صدارت چھوڑ کر چلے گئے۔ ارکان ایوان میں نعرے بازی کرتے رہے۔ تقریباً 10 منٹ بعد میئر واپس اپنی نشست پر آئے، جس کے بعد اجلاس نسبتاً پُرسکون ماحول میں دوبارہ شروع ہوگیا۔

یہ تنازع عباسی شہید اسپتال میں وژن کالج آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے ساتھ معاہدے کے ذریعے نرسنگ کالج کی بحالی سے متعلق قرارداد پر بحث کے دوران سامنے آیا۔

اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کے قیمتی اثاثے نجی اداروں کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور بعض معاملات میں انہیں ’معمولی معاوضے یا کرائے‘ پر دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کے ایم سی کو خود وسائل کی ضرورت ہے تو اس کی املاک دیگر اداروں کو کیوں دی جا رہی ہیں۔

اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا اور حکومتی و اپوزیشن ارکان نے مختلف قراردادوں پر اظہار خیال کیا۔

سٹی کونسل نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی مخالفت میں پیش کی گئی قرارداد بھی اکثریتی ووٹ سے منظور کرلی۔ جماعت اسلامی کے ارکان نے قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔

اجلاس میں مجموعی طور پر 24 قراردادیں پیش کی گئیں۔ ان میں سے 10 قراردادیں متفقہ طور پر، 10 اکثریتی ووٹ سے منظور ہوئیں، تین مزید غور کے لیے کمیٹیوں کو بھیج دی گئیں جبکہ ایک قرارداد متفقہ طور پر مسترد کردی گئی۔

متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراردادوں میں کے ایم سی کے محکمہ فنانس اینڈ اکاؤنٹس کے بجٹ سیکشن کے معمول کے اخراجات کے لیے ماہانہ دو مرتبہ 10 ہزار روپے بطور امپریسٹ اکاؤنٹ مختص کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

کونسل نے ملیر کے یو سی ون چوکاںڈی ابراہیم حیدری میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے 100 گھروں کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال پر پہلے سے کیے گئے 4 کروڑ 5 لاکھ روپے کے اخراجات کی بھی منظوری دے دی۔

نشتَر روڈ پر گارڈن انٹرسیکشن پر فلائی اوور کی تعمیر کے لیے پی سی ون کے تحت 94 کروڑ 81 لاکھ 50 ہزار روپے کی منظوری بھی دی گئی۔

دیگر متفقہ منظوریوں میں اورنگی ٹاؤن شپ میں منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق 86 ایکڑ اراضی کی واپسی، کے ایم سی فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کا اجرا، کے ایم سی اسپتالوں میں FCPS-II اور MCPS کی تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کے وظائف میں اضافہ اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس انڈور اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر شامل ہیں۔

اکثریتی ووٹ سے وژن کالج آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت عباسی شہید اسپتال میں نرسنگ کالج بحال کیا جائے گا۔

کونسل نے اسپینسر آئی ہسپتال کے فیز ون کی تکمیل کے لیے ایک غیر منافع بخش ادارے کے حق میں 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کی گرانٹ اِن ایڈ بھی منظور کی۔ مذکورہ ادارہ پہلے ہی اپنے وسائل سے ایک کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے۔

کونسل نے ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کی پرانی عمارت، سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے 4 کروڑ 98 لاکھ 90 ہزار روپے کی منظوری بھی اکثریتی ووٹ سے دی۔

اسی طرح 12 ربیع الاول کے موقع پر مساجد اور ان تک رسائی کے راستوں کے اطراف ترقیاتی و بحالی کے کاموں کے لیے 20 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔

مزید تین تجاویز کو غور و خوض کے لیے کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا، جن میں اورنگی ٹاؤن شپ میں کمیونٹی سینٹر کے لیے زمین کی فراہمی کی تجویز بھی شامل تھی۔

متعلقہ خبریں