گلگت بلتستان نے 1947 میں جہاد کے ذریعے پاکستان سے الحاق کیا، مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے: صدر آصف علی زرداری
گلگت: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1947 میں ڈوگرہ راج کے خلاف جہاد کر کے پاکستان سے الحاق کیا، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی آج کے دور کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔
گلگت بلتستان کی ڈوگرہ راج سے آزادی کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی بہادری اور قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں۔ 1947 کی جنگ میں 1700 جانبازوں نے وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ “ہر وادی میں اسکول ہونا چاہیے، کیونکہ تعلیم ہی ترقی کی بنیاد ہے،” انہوں نے کہا۔ صدر نے اس خطے کے قدرتی وسائل اور معدنی دولت کو پاکستان کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ اپنی ایئرلائن کے قیام پر بھی غور ہونا چاہیے۔
صدر آصف علی زرداری نے بھارت میں مسلمانوں پر جاری مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، کشمیریوں کی آزادی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان کا مخلص دوست اور شراکت دار ہے، سی پیک پاکستان کی ترقی کی علامت ہے اور اس کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
صدر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ وہ گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی طرح ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ “جب گلگت بلتستان ترقی کرے گا، تو پاکستان ترقی کرے گا۔”