لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کے روز صوبے بھر میں سرکاری محکموں اور فیلڈ انتظامیہ کی منظم اور حقیقی وقت میں کارکردگی جانچنے کے لیے پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کے قیام کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ خود پی ایم یو کے مرکزی ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبہ بھر کی لائیو مانیٹرنگ کریں گی۔ اجلاس کو چیئرمین سی ایم کمپلینٹ سیل شعیب مرزا نے بریفنگ دی، جس میں عوامی مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ ان مسائل میں کھلے مین ہولز، مہنگائی، آوارہ کتوں کا مسئلہ، وال چاکنگ، ابلتے نالے، قبرستانوں کی صورتحال، ریڑھی بازار اور سرکاری اداروں کی مجموعی کارکردگی شامل تھی۔
اجلاس میں پنجاب میں اپنی نوعیت کے پہلے “ورچوئل ٹور وال” کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعلیٰ صوبے بھر میں افسران اور اہلکاروں کی حاضری اور زمینی سطح پر کارکردگی کی نگرانی کر سکیں گی۔ بتایا گیا کہ نئے مانیٹرنگ فریم ورک کے تحت شہری خطرات، تجاوزات اور شہری تحفظ سے متعلق مسائل کو نظرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی کارکردگی جانچنے کے لیے پہلا کلیدی کارکردگی اشاریہ (کے پی آئی) ڈیش بورڈ فعال کیا جائے گا، جبکہ پی ایم یو مجموعی طور پر 22 اہم کارکردگی اشاریوں کی مسلسل نگرانی کرے گا۔
پی ایم یو ستھرا پنجاب پروگرام کی نگرانی بھی کرے گا، جس میں صفائی، ٹھوس کچرے کی تلفی، نکاسی آب اور سیوریج نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ آٹے، روٹی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی دستیابی اور قیمتوں پر نظر رکھی جائے گی، وال چاکنگ پر پابندی کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا اور آوارہ کتوں سے بچوں کے تحفظ سے متعلق مہمات کی نگرانی بھی کی جائے گی۔
کارکردگی کے اشاریوں میں پارکس اور قبرستانوں کی حالت، ریڑھی بازاروں کا نظم و ضبط، اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پرائس کنٹرول بھی شامل ہوگا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر عملدرآمد اور نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر سی ایم آئی ٹی یونٹس بھی قائم کیے جائیں گے۔
یہ اقدام صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایک مرکزی، ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت سرکاری محکموں کی کارکردگی کی براہِ راست نگرانی وزیراعلیٰ خود کریں گی۔