گل پلازہ سانحہ: کراچی میں آگ، جانیں ضائع، مگر سندھ حکومت اور بلدیہ کی غفلت بدستور برقرار

کراچی (نیوز رپورٹ) ایک بار پھر آگ کی لپیٹ میں آیا، ایک بار پھر قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں اور ایک بار پھر ذمہ دار اداروں کی غفلت بے نقاب ہو گئی۔ 17 جنوری 2026 کی رات ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ (گن پلازہ) میں لگنے والی ہولناک آگ نے کم از کم چھ افراد کی جان لے لی، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو آپریشن 18 جنوری تک جاری رہا، تاہم عمارت کے جزوی طور پر منہدم ہونے، شدید دھوئیں اور ناقص رسائی کے باعث امدادی سرگرمیاں شدید مشکلات کا شکار رہیں۔ اتوار کی سہ پہر تک آگ پر مکمل قابو نہ پایا جا سکا اور اندازوں کے مطابق 1,200 کے قریب دکانیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ رات تقریباً 10:40 بجے گراؤنڈ فلور پر واقع دکانوں سے شروع ہوئی جہاں آتش گیر درآمدی کپڑے، پلاسٹک، کھلونے اور الیکٹرانکس کا سامان موجود تھا۔ مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ نے آگ کو جنم دیا، جسے ناقص وائرنگ، بند کھڑکیوں، ناکافی وینٹیلیشن اور فائر سیفٹی انتظامات کی عدم موجودگی نے چند ہی لمحوں میں پوری عمارت میں پھیلا دیا۔ کے الیکٹرک نے ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے اسے اندرونی وائرنگ کا مسئلہ قرار دیا، جبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں گیس سلنڈر دھماکے کا بھی ذکر سامنے آیا، تاہم حتمی وجہ کا تعین تاحال باقی ہے۔

کراچی فائر بریگیڈ نے آگ کو تھرڈ ڈگری قرار دیا اور شہر بھر سے 40 سے زائد فائر ٹینڈرز، اسنارکلز اور واٹر کینن موقع پر پہنچائے گئے۔ فائر فائٹرز نے جان کی پروا کیے بغیر کئی افراد کو عمارت سے نکالا، مگر شدید حرارت اور ڈھانچے کے گرنے کے خطرے کے باعث ابتدائی طور پر اندر داخل ہونا ممکن نہ رہا۔ ایک فائر فائٹر اپنی جان قربان کر گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ناکام انتظامی نظام کی قیمت ہمیشہ فرنٹ لائن پر کام کرنے والے اہلکار اور عام شہری ادا کرتے ہیں۔

ریسکیو 1122 نے ماس ڈیزاسٹر پروٹوکول نافذ کیا، جبکہ کے ایم سی، نیوی اور دیگر اداروں نے مشترکہ طور پر کارروائیاں کیں۔ اگرچہ امدادی اداروں نے اپنی بساط کے مطابق کوششیں کیں، مگر اصل سوال ایمرجنسی رسپانس نہیں بلکہ اس سے پہلے کی غفلت کا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کراچی میں مارکیٹس، پلازوں اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر نہ ہونے کے برابر عملدرآمد ہے، مگر اس کے باوجود سندھ حکومت اور بلدیہ کراچی کی جانب سے کوئی مؤثر اور مستقل حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے، پولیس نے بھی مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم ماضی کے تلخ تجربات یہ بتاتے ہیں کہ ایسی تحقیقات اکثر فائلوں تک محدود رہتی ہیں۔ نہ ذمہ دار افسران کا تعین ہوتا ہے، نہ غیر قانونی تعمیرات، ناقص این او سیز اور حفاظتی غفلت پر کوئی بڑی سزا سامنے آتی ہے۔ دکاندار اور متاثرہ خاندان مطالبہ کر رہے ہیں کہ محض بیانات اور کمیٹیوں کے بجائے اصل ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

یہ سانحہ سندھ حکومت اور میئر کراچی کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ شہر میں آئے دن ہونے والے ایسے واقعات کے باوجود نہ فائر سیفٹی آڈٹس کو سنجیدگی سے لیا گیا، نہ خطرناک عمارتوں کو سیل کیا گیا اور نہ ہی تجارتی مراکز میں حفاظتی معیار کو یقینی بنایا جا سکا۔ جب تک احتساب، سخت قانون سازی اور بلاامتیاز عملدرآمد کو ترجیح نہیں دی جاتی، کراچی میں آگ کے یہ شعلے یونہی انسانی جانیں نگلتے رہیں گے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ گل پلازہ میں آگ کیسے لگی، بلکہ یہ ہے کہ اس کے تمام اسباب برسوں سے موجود ہونے کے باوجود انہیں ختم کیوں نہ کیا گیا، اور کیا اس شہر کے باسیوں کو کبھی ایک محفوظ کراچی نصیب ہو سکے گا؟

متعلقہ خبریں