کراچی: میئر مرتضیٰ وہاب کا وفاق سےحب ڈیم سے پانی کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ

کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حب ڈیم سے کراچی کے لیے پانی کا کوٹہ بڑھایا جائے، کیونکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے لیے کسی ایک ذریعے پر انحصار اب پائیدار نہیں رہا۔

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ سندھ حکومت نے واپڈا سے کراچی کے لیے یومیہ 100 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق واپڈا نے اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں لے جانے کا مشورہ دیا، جہاں یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کراچی صرف کینجھر جھیل کے نظام پر انحصار نہیں کر سکتا اور دیگر دستیاب آبی وسائل کو بھی بروئے کار لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں کی نظراندازی کے بعد اب حب ریزروائر کو ترجیح دی گئی ہے۔

میئر کراچی کے مطابق حب ریزروائر کی صلاحیت 15 ایم جی ڈی تھی، مگر برسوں تک اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ حالیہ بارشوں کے بعد ڈیم بھر چکا ہے اور اس میں تقریباً تین سال کا پانی ذخیرہ ہو گیا ہے، جس کے باعث حب کو ایک اہم آبی ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ حب ڈیم پر 12.8 ارب روپے کی لاگت سے نئی نہر تعمیر کی گئی ہے جبکہ پرانی نہر کی بھی بحالی کی گئی ہے، جس کے بعد حب سے پانی کی فراہمی کی صلاحیت 200 ایم جی ڈی تک بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق پرانی نہر وقت کے ساتھ ناکارہ ہو چکی تھی، جس سے پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی تھی۔

میئر مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا کہ حب ریزروائر کی ڈی سلٹنگ کا کام بھی شروع کیا جائے گا، جس سے ماڑی پور، منگھوپیر اور قریبی علاقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام رمضان سے قبل مکمل کر لیا جائے گا تاکہ مغربی، وسطی اور کیماڑی اضلاع کے مکین مستفید ہو سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایل سی آر، ایل ایس آر اور ای اینڈ آئی پمپنگ اسٹیشنز کی حالت خراب تھی، جنہیں نئے موٹروں کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات سے پانی کی فراہمی میں 4.5 سے 5 ایم جی ڈی کا اضافہ متوقع ہے، جبکہ پائپ لائنز کی جانچ کا عمل جاری ہے۔

میئر نے کہا کہ گارڈن کے علاقے میں حالیہ دنوں میں پانی کی لائنیں اس لیے پھٹیں کیونکہ طویل عرصے بعد ان علاقوں میں پانی پہنچا تھا۔

انتظامی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور واٹر بورڈ میں شفافیت کے لیے ایس اے پی سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس نظام کے ذریعے 73 ایسے ملازمین کی نشاندہی ہوئی جو بیک وقت کے ایم سی اور واٹر بورڈ سے تنخواہیں وصول کر رہے تھے، جبکہ پنشن سے متعلق بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کی تمام تنخواہیں اب ایس اے پی کے ذریعے دی جا رہی ہیں اور مارچ تک واٹر کارپوریشن کی تنخواہیں بھی اسی نظام کے تحت منتقل کر دی جائیں گی۔ 30 جون تک تمام کنٹریکٹس بھی ایس اے پی کے ذریعے جاری کیے جائیں گے تاکہ جعلی کنٹریکٹس کا خاتمہ ہو سکے۔

گُل پلازہ سانحے کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کمشنر کی انکوائری آخری مراحل میں ہے اور رپورٹ کل تک مکمل ہو جائے گی، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے سندھ کے وزیرِاعلیٰ کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔

متعلقہ خبریں