متحدہ کا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ غیر آئینی ہے، نثار کھوڑو

لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثاراحمد کھوڑو نے کہا ہے کہ کراچی کو وفاقی حکومت کے کنٹرول میں دینے کا مطالبہ آئین کے منافی ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے تحت وفاقی حکومت کراچی کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی۔

جمعہ کو جاری بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے ایم کیو ایم-پاکستان کے مطالبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وفاق صرف وفاقی قوانین پر عملدرآمد سے متعلق صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کر سکتا ہے، لیکن صوبائی دائرہ اختیار میں مداخلت کا کوئی آئینی جواز موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 149 کی شق 4 وفاقی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ صوبوں کو صوبائی معاملات میں احکامات جاری کرے یا ان کے انتظامی امور اپنے کنٹرول میں لے۔ اسی طرح آرٹیکل 148 کی شق 2 کے تحت اگر وفاق کوئی ہدایت جاری کرتا ہے تو وہ صوبے کے مفاد میں ہونی چاہیے، اور اس مفاد کے تحفظ کی ذمہ داری صوبائی اسمبلی، حکومت اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ آئین وفاق اور وفاقی اکائیوں کے اختیارات کی واضح حد بندی کرتا ہے اور ایم کیو ایم-پاکستان کا یہ مطالبہ دراصل ’ون یونٹ‘ نظام کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ پہلے پی ٹی آئی کے دور میں بیرسٹر فروغ نسیم نے اٹھایا تھا اور اب مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے دوبارہ دہرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم-پاکستان دراصل سابق صدر پرویز مشرف کے دور کا نظام واپس لانا چاہتی ہے جب کراچی کو براہ راست مرکز سے فنڈز ملتے تھے، تاہم یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

پیپلز پارٹی رہنما نے دوٹوک اعلان کیا کہ پارٹی کسی صورت اٹھارویں آئینی ترمیم، صوبائی خودمختاری اور قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کو واپس لینے کی اجازت نہیں دے گی۔

متعلقہ خبریں