کراچی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر ایک نیا اسکینڈل سامنے آگیا ہے، جہاں مبینہ طور پر کمشنر کراچی کے احکامات کو اسسٹنٹ کمشنر کی سطح پر کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا۔ ضلع کورنگی کے ماڈل کالونی زون میں ریونیو محکمہ کا ایک جونیئر کلرک، شہزاد شاہ، انسدادِ تجاوزات آپریشن کے دوران ضبط کیے گئے سامان کی غیر قانونی فروخت میں ملوث پایا گیا۔ذرائع کے مطابق دن بھر تجاوزات کے نام پر شہریوں سے ضبط کیا جانے والا سامان رات کی تاریکی میں فروخت کیا جاتا رہا۔ متاثرہ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شہزاد شاہ غریب افراد کا قیمتی سامان بیچنے میں ملوث ہے۔ ایک واقعے میں شہریوں نے ایک ہوٹل پر بیٹھے اپنا سامان پہچان لیا اور فوری طور پر گاڑی کو روک لیا، تاہم اسی دوران شہزاد شاہ موقع پر پہنچا اور سامان سے بھری گاڑی کو وہاں سے روانہ کروا دیا۔عینی شاہدین کے مطابق شہزاد شاہ اس دوران فون پر کسی سے ہدایات لیتا رہا اور شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آچکی ہے، جس میں مبینہ طور پر آفس سے سامان باہر منتقل کرتے واضح مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ جب ایک چوکیدار نے مشکوک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو ایک سفید گاڑی آکر اسے وہاں سے نکال لے گئی۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ واضح شواہد اور نشاندہی کے باوجود متعلقہ افسران کارروائی سے گریزاں ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کورنگی کو درخواستیں دینے کے باوجود تاحال کوئی مؤثر ایکشن نہیں لیا گیا۔شہریوں نے کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ضبط شدہ سامان کی غیر قانونی فروخت کے اس مبینہ نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے۔