کراچی ماحولیاتی خطرات سے دوچار حساس ترین شہروں میں شامل، فورم میں انکشاف

کراچی (نمائندہ مقامی حکومت) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کراچی دنیا کے ان بڑے شہروں میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں، جہاں شدید گرمی، شہری سیلاب، ساحلی خطرات اور کمزور انفراسٹرکچر بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔

یہ بات “اربن کلائمیٹ فورم: سسٹیمیٹک کلائمیٹ رسک سے تیاری تک” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں سامنے آئی، جس کا انعقاد کراچی سینٹر فار کلائمیٹ چینج اور سہیل یونیورسٹی نے زکی حسن آڈیٹوریم، میڈیکیئر ہسپتال میں کیا۔

وفاقی سیکریٹری برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ ہمیرا موریانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اپنی ساحلی پوزیشن، گنجان آبادی اور کمزور طرزِ حکمرانی کے باعث انتہائی حساس شہر بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹ ویوز موسمیاتی تبدیلی کا نمایاں اثر ہیں، جبکہ آئندہ مون سون میں شدید بارشوں کی توقع ہے اور موجودہ نکاسی آب کا نظام اس دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرکاری سرمایہ کاری، کمیونٹی کی شمولیت اور تعلیمی اداروں کے کردار کو بڑھانا ہوگا تاکہ حکومتی نظام کو زیادہ مؤثر اور متحرک بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث کچرے میں سالانہ آٹھ فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جو ایک طرف مسئلہ ہے تو دوسری جانب سرمایہ کاری کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

رکن سندھ اسمبلی ریحان بندوق دا نے کہا کہ معاشرے میں مسائل کا شعور موجود ہے مگر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ قابلِ عمل تجاویز پیش کریں اور مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ پیدا کریں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن منزہ حسن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ادارہ جاتی صلاحیت اور باہمی رابطے کی کمی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبائی حکومتیں یکساں طور پر تکنیکی، مالی اور ادارہ جاتی صلاحیت نہیں رکھتیں جبکہ بلدیاتی ادارے، جو شہری سطح پر سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، سب سے کمزور کڑی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ شہری منصوبہ بندی، پانی کے انتظام، انفراسٹرکچر اور صحت عامہ سمیت ہر شعبے میں موسمیاتی تبدیلی کو بنیادی عنصر کے طور پر شامل کرنا ہوگا۔

فورم میں دیگر ماہرین نے بھی مختلف مسائل اور ان کے حل پر روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ڈاکٹر جوزے انتونیو پپم نے ادارہ جاتی رکاوٹوں کے حل پر بات کی، جبکہ سینٹیک فائبر کے سی ای او عابد عمر نے شہروں میں بڑھتے ہوئے کچرے اور اسے جلانے کے رجحان کو فضائی آلودگی میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا۔

پاکستان بزنس کونسل کے سینٹر فار ریسپانسبل بزنس کی نمائندہ نازش شیخا نے کہا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت نہ صرف مصنوعات بلکہ ملازمین کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کنٹری ڈائریکٹر کاشف علی نے مؤثر مانیٹرنگ سسٹم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے کوئی ایک مربوط ادارہ موجود نہیں، جس کے باعث پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کو مستقبل میں مزید سنگین ماحولیاتی اور شہری مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں