کوئٹہ (نمائندہ مقامی حکومت) — بلوچستان میں ایندھن کے بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث تعلیمی اداروں کی حالیہ بندش پر نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں اور والدین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
تعلیمی ماہر اور اسکول و کالج سسٹم کے سربراہ زاہد جان مدوخیل نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کو جزوی طور پر بحال کیا جائے تاکہ طلبہ کا تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سرد علاقوں میں شامل ہے جہاں تعلیمی ادارے تقریباً ڈھائی ماہ کی سردیوں کی تعطیلات کے بعد حال ہی میں کھلے تھے، تاہم نئی بندش نے ایک بار پھر تعلیمی تسلسل کو متاثر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے ہی سالانہ تعلیمی دنوں کی تعداد محدود (تقریباً 150 دن) ہے، ایسے میں بار بار تعطیلات طلبہ کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے دیگر سرکاری اداروں کے لیے چار روزہ ورکنگ ویک کا اعلان کیا ہے، لیکن تعلیمی اداروں کو مکمل طور پر بند کر دینا غیر منصفانہ اقدام محسوس ہوتا ہے۔
والدین اور تعلیمی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ تعلیمی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔