آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے شانگلہ کے دیہات میں ہیپاٹائٹس-اے پھیلنے کا خدشہ

شانگلہ (نمائندہ خصوصی) ضلع شنگلہ کے مختلف دیہات میں ہیپاٹائٹس-اے کے ممکنہ پھیلاؤ پر مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق لیلونائی کے علاقے کے دیہات شیشان، دینائی، ڈنگو اور اجورائی میں گزشتہ چند روز کے دوران ہیپاٹائٹس-اے کی علامات والے متعدد مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچوں اور افراد کو ان کے اہل خانہ قریبی صحت مراکز منتقل کر رہے ہیں۔ مقامی عمائدین نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بیماری کے غیر معمولی کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے دیہی آبادی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقے دور افتادہ اور پسماندہ ہیں جہاں صاف پانی، نکاسی آب اور صحت کی بنیادی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

مقامی وکیل وقیف شاہ نے بتایا کہ زیادہ تر آبادی زراعت اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہے جبکہ بیماری سے متعلق آگاہی کی کمی کے باعث لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے قاصر ہیں، جس سے وبا پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دیہات میں پانی کے ذرائع اکثر آلودہ ہوتے ہیں، جو ممکنہ طور پر بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر صاف پانی کی فراہمی، صفائی کے نظام میں بہتری اور طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

علاقہ مکینوں نے صحت کے محکمے سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیجی جائیں، مریضوں کے لیے ادویات فراہم کی جائیں اور بنیادی صحت مراکز کی صلاحیت بڑھائی جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق رپورٹ کے بعد پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے پانی کے نمونے حاصل کر لیے ہیں تاکہ آلودگی اور بیماری کے درمیان تعلق کی جانچ کی جا سکے۔ تاہم ابھی تک کیسز کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی اور لیبارٹری رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں