مالاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکس کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال، معمولاتِ زندگی مفلوج
سوات: مالاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جس کے باعث سوات، اپر اور لوئر دیر، باجوڑ، شانگلہ، چترال، مالاکنڈ اور بونیر میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔ ہڑتال میں تاجر برادری کے علاوہ وکلا، ڈاکٹرز، مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ بازار، تجارتی مراکز، بینک اور متعدد نجی تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ کئی علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہی، جس سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔
سوات کے نشاط چوک میں احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مالاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم خان نے کہا کہ دہشت گردی، فوجی آپریشنز، بے دخلی اور تباہ کن سیلابوں کے باعث خطے کی معیشت پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے، ایسے میں وفاقی انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کا نفاذ عوام پر اضافی بوجھ ہوگا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مالاکنڈ کی ٹیکس سے استثنیٰ کی حیثیت 1969 میں علاقے کے انضمام کے بعد طے پانے والے آئینی انتظامات سے منسلک ہے، جسے علاقے سے کیے گئے وعدے پورے کیے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران شرکا نے وفاقی حکومت سے مجوزہ ٹیکس فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔