لاہور کے لکھوڈیر ویسٹ ٹو انرجی منصوبے کی فزیبلٹی آئندہ ماہ مکمل ہونے کا امکان
لاہور: پنجاب کے فلیگ شپ ویسٹ ٹو انرجی منصوبے، لکھوڈیر لینڈ فل گیس کلیکشن اینڈ یوٹیلائزیشن پروجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی آئندہ ماہ مکمل ہونے کا امکان ہے۔ سُتھرا پنجاب اتھارٹی (SPA) کے ڈائریکٹر جنرل بابر صاحب دین کے مطابق نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) اس منصوبے کی فزیبلٹی پر کام کر رہا ہے، جسے اگست کے اختتام تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
تقریباً 200 ایکڑ پر پھیلا لکھوڈیر لینڈ فل پاکستان کے بڑے سالڈ ویسٹ ڈمپنگ مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں روزانہ پانچ سے ساڑھے پانچ ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے جبکہ مجموعی طور پر تقریباً دو کروڑ ٹن فضلہ موجود ہے۔ یہ مقام میتھین گیس کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جو عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والی طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لینڈ فل سے خارج ہونے والی میتھین کو جمع کرکے قابلِ تجدید بائیو میتھین توانائی، کاربن کریڈٹس اور معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ہے۔
منصوبہ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت بین الاقوامی تعاون کے فریم ورک میں تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اس کے لیے لیٹر آف انٹینٹ بھی جاری کر چکی ہے۔ نیسپاک اور جی ایس یو کے کے اشتراک سے تیار ہونے والی فزیبلٹی کے بعد ستمبر 2026 میں منصوبے کی تفصیلی ڈیزائن دستاویز اور مانیٹرنگ فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ تقریباً 25 سے 35 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے مجوزہ منصوبہ سالانہ 18.8 ملین مکعب میٹر میتھین گیس پیدا کرے گا، جسے 96 سے 98 فیصد قابلِ تجدید بائیو میتھین میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سالانہ تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار کاربن کریڈٹس، 3.5 سے 5.8 ملین امریکی ڈالر تک آمدن، 150 سے 220 براہِ راست ملازمتیں اور ملک کی توانائی کے شعبے میں بہتری کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ منصوبے کو ناروے کے این اے سی اے فنڈ کی جانب سے بھی مزید جائزے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، اور کامیاب تکمیل کی صورت میں ناروے پاکستان سے اس منصوبے کے تحت حاصل ہونے والے کاربن کریڈٹس خرید سکتا ہے۔