8.5 ارب روپے کے ییلو لائن کرپشن کیس کے مرکزی ملزم کے خلاف نیب کی نئی تحقیقات شروع

کراچی (نمائندہ خصوصی) 8.5 ارب روپے کے مبینہ یلو لائن کرپشن کیس کے مرکزی ملزم، سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کراچی موبیلیٹی پراجیکٹ ضمیر عباسی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور سندھ حکومت میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں سے متعلق باضابطہ انکوائری شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب نے ضمیر عباسی، ان کی اہلیہ، بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے نام پر رجسٹرڈ منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں سے طلب کر لی ہیں تاکہ ان کے مالی معاملات کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس سے قبل جون 2026 میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) سندھ نے کراچی موبیلیٹی پراجیکٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں ضمیر عباسی اور دیگر افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ انکوائری رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ ضمیر عباسی اور اس وقت کے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ نے ٹھیکیداروں کو بینک گارنٹی کے بغیر تقریباً 8.5 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کیں، حالانکہ معاہدوں میں ایسی ادائیگی کی کوئی شق موجود نہیں تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضمیر عباسی نے اپنے کیریئر کا آغاز نیب سے کیا، بعد ازاں وہ سندھ پولیس میں بطور ڈی ایس پی تعینات رہے اور پھر مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی بعض تقرریوں اور ترقیوں کو بھی مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ضمیر عباسی کو لاہور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا تھا، جبکہ متعلقہ عدالت ان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر چکی ہے۔ نیب کی تازہ تحقیقات کے بعد کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں