سندھ میں بلدیاتی قانون میں مجوزہ ترامیم کو اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کردیا

کراچی: سندھ اسمبلی میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کو مشترکہ طور پر مسترد کرتے ہوئے مسودہ قانون کو ’غیر آئینی‘ اور منتخب بلدیاتی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دے دیا۔

ترمیم شدہ بلدیاتی بل کا جائزہ لینے کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہفتے کے روز سندھ اسمبلی میں ہوا، جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے شرکت کی۔

حکومتی ارکان میں وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، قاسم سراج سومرو، جمیل سومرو، سلیم بلوچ اور سمیٹا افضل شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم۔پاکستان) کے طٰہٰ احمد اور افتخار عالم، جماعت اسلامی کے محمد فاروق اور پاکستان تحریک انصاف کے شبیر قریشی شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے بلدیاتی قانون میں مجوزہ ترامیم کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے حکومتی ترامیم کا دفاع کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے طٰہٰ احمد نے خصوصی کمیٹی کی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی مرضی کے مطابق کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور فیصلوں میں بھی اسی کی مرضی چلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو اختیارات منتقل نہ کرکے بلدیاتی نظام کو کمزور کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اختیارات منتقل نہ کرنے سے بلدیاتی نظام بے معنی ہوجاتا ہے۔

طٰہٰ احمد نے کہا کہ ان کی جماعت شہری سندھ کی نمائندہ ہے اور وہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین اور اسمبلی اجلاس کی کارروائی کو مسترد کرتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 140-A کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے میئرز کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا اور پیپلز پارٹی پر زور دیا کہ وہ اپنے 2008 کے منشور میں کیے گئے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے وعدے پر عمل کرے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ماسٹر پلان، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر بورڈ کے اختیارات میئر سے کیوں واپس لیے جارہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ’متنازع قانون سازی‘ واپس نہ لی گئی تو ملک گیر احتجاج کیا جاسکتا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے افتخار عالم نے بھی مجوزہ قانون کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انتخابات سے قبل ایڈمنسٹریٹر کی تقرری پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر کی صورت میں ایڈمنسٹریٹر کی مدت بھی واضح نہیں کی گئی، جس سے بلدیاتی نظام میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

افتخار عالم نے خصوصی کمیٹی کے اجلاس کو ’مذاق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق بلدیاتی اداروں کو اختیارات کی منتقلی پر کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی۔

پی ٹی آئی کے شبیر قریشی نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت کی تجاویز مسترد کردی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر یونین کونسلز میں غیر منتخب نمائندوں کو بٹھانے کی تجویز کی مخالفت کی۔

جماعت اسلامی کے محمد فاروق نے کہا کہ موجودہ قانون نے پہلے ہی بلدیاتی اداروں کو بے اختیار کردیا ہے اور کراچی کے میئر بھی مؤثر اختیارات سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے تجویز دی تھی کہ 120 دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور ایڈمنسٹریٹر مقرر نہ کیے جائیں، تاہم یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔

انہوں نے یونین کونسل کی سطح پر اختیارات منتقل کرنے کے بجائے نگرانی کا نظام برقرار رکھنے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے تین ماہ قبل پیش کی گئی کوئی بھی تجویز منظور نہیں کی گئی۔

دوسری جانب وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے حکومتی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی نمائندوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تجویز دی ہے کہ انتخابات سے 120 روز قبل الیکشن کمیشن کو خط لکھا جائے۔

متعلقہ خبریں