نجی اسپتال کا چیف ایگزیکٹو ایف آئی اے کے حوالے، تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد: جوڈیشل مجسٹریٹ نے انسانی اعضا کی پیوند کاری سے متعلق قانون کی مبینہ خلاف ورزی کے کیس میں نجی اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) شوکت علی بنگش کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ عدنان رشید نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ سنایا۔

ایف آئی اے کے مطابق شوکت علی بنگش پر انسانی اعضا کی پیوند کاری سے متعلق قانون کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ تحقیقاتی ادارے نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران انسانی اعضا کی پیوند کاری کے عمل میں مبینہ تجارتی مفادات کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

ایف آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ایک ایجنٹ کے اکاؤنٹ سے نجی اسپتال کے اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 33 لاکھ روپے منتقل کیے گئے، جس سے اعضا کی پیوند کاری کے عمل میں ہونے والے مالی معاملات پر سوالات اٹھتے ہیں۔

تحقیقاتی ادارے نے عدالت سے ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مبینہ مالی لین دین کی مزید تحقیقات اور کیس میں ملزم سمیت دیگر افراد کے کردار کا تعین کرنا ضروری ہے۔

شوکت علی بنگش کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے اپنے مؤکل کو مقدمے سے بری کرنے کی استدعا کی۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ ملزم کے خلاف الزامات اس کی حراست کا جواز فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ شوکت علی بنگش کے خلاف الزام بادی النظر میں درست معلوم ہوتا ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات ضروری ہیں۔ تاہم عدالت نے ایف آئی اے کی 14 روزہ ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور اسے مزید تفتیش کے لیے تحقیقاتی ادارے کے حوالے کر دیا۔

SEO Focus Keyphrase: private hospital CEO FIA remand

متعلقہ خبریں