احسن آباد میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت، تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم
پولیس کو تاحال قتل کے شواہد نہیں ملے، واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کا فیصلہ
کراچی: احسن آباد کے ایک اپارٹمنٹ میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی پراسرار ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق اتوار کو ساتویں منزل پر واقع فلیٹ کے ایک کمرے سے 45 سالہ ڈاکٹر عمر، ان کی 35 سالہ اہلیہ مہوش، 10 سالہ بیٹی زینب اور دو کمسن بیٹیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اہلکاروں کے مطابق کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا جسے توڑ کر لاشیں نکالی گئیں۔
آئی جی پولیس نے کراچی پولیس چیف کو ہدایت کی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں انتہائی تربیت یافتہ تفتیشی افسران اور فرانزک ماہرین کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تفتیشی اور تکنیکی ذرائع کی مدد سے واقعے کے تمام حقائق سامنے لائے جائیں اور تحقیقات کے دوران کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان کے مطابق پانچوں افراد کی ہلاکت کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ واقعہ قتل ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر عمر شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے اور انہیں گردے کے سرطان کی بھی تشخیص ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک نجی اسپتال میں ملازمت چھوڑ دی تھی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
لاشوں کو ایدھی سرد خانے منتقل کیے جانے کے بعد پیر کی شام مرحومین کے رشتہ داروں کے حوالے کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمر کے بھائی اور سسر پنجاب سے کراچی پہنچ گئے ہیں، جن کی موجودگی میں تفتیشی ٹیم فلیٹ کا دوبارہ مکمل جائزہ لے گی۔
پولیس چیف کے مطابق واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا۔
ایسٹ ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان سدو زئی نے بتایا کہ واقعے کی ہر ممکنہ زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایس آئی ٹی ای سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا تھانے کے ایس ایچ او محمد نواز کے مطابق پڑوسیوں نے پولیس کو بتایا کہ ڈاکٹر عمر اسٹریٹ کرائم کا بھی نشانہ بن چکے تھے۔ پڑوسیوں نے خاندان کو درپیش شدید مالی مشکلات سے بھی پولیس کو آگاہ کیا۔
ایس ایچ او کے مطابق فلیٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں ملا جبکہ کچن اور فریج بھی خالی تھے۔ ان کے مطابق گردے کے سرطان کی تشخیص کے بعد ڈاکٹر عمر نے مبینہ طور پر اگست سے اسپتال جانا چھوڑ دیا تھا اور اسپتال انتظامیہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔
پولیس کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے ڈاکٹر عمر کو ملازمت چھوڑنے سے روکنے کی کوشش کی اور ان کے علاج کا انتظام کرنے کی پیشکش بھی کی، تاہم انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔ انہوں نے 15 ستمبر کو باقاعدہ استعفیٰ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ علاج کے لیے پنجاب جا رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش اور فرانزک شواہد کی روشنی میں ہی ہلاکتوں کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکے گا۔