پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان: 100 اور 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے، ٹریفک کے مسائل حل کرنے اور تجاوزات کے خاتمے کے بعد خالی کرائی گئی اراضی کو عوامی مقامات میں تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت پیر کو گورنر ہاؤس پشاور میں ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر خزانہ آصف محمود پاشا، مشیر بلدیات آصف رفیق، چیف سیکرٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گورنر کو منصوبے کے تحت 100 اور 180 روزہ اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رنگ روڈ مسنگ لنک کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی تکمیل، انڈر پاسز کی تعمیر، الیکٹرک پولز کی تنصیب، اسٹریٹ لائٹنگ اور کیبلنگ 100 روزہ اہداف میں شامل ہیں۔ پشاور میں تین انڈر پاسز مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ پشتخرہ اور جمیل چوک انڈر پاسز جلد مکمل کیے جائیں گے۔
بریفنگ کے مطابق رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ پر 500 ملین روپے کی لاگت سے الیکٹرک پولز کی تنصیب، بحالی، روشنی کے انتظامات اور کیبلنگ کا کام جاری ہے۔ شہر کی 35 اہم سڑکوں کی بحالی، اپ گریڈیشن اور تعمیر کے منصوبوں پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ پیر زکوڑی فلائی اوور کے لیول ٹو کی تعمیر اور ناصر باغ روڈ کی توسیع پر کام جاری ہے، جبکہ یونیورسٹی روڈ، رام داس چونگی اور لاہوری چوک فیز ون میں انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 323 کنال اراضی پر مشتمل نیو پشاور بس ٹرمینل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جلد فعال کیا جائے گا۔ پرانے بس اڈوں پر شاپنگ مالز یا فلیٹس کی تعمیر کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بعد خالی کرائی گئی جگہوں سے ملبہ دو روز میں اٹھانے اور ان مقامات کو خوبصورت بنانے کے لیے گھاس لگانے سمیت دیگر اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیر زکوڑی فلائی اوور سے امن چوک اور کارخانو مارکیٹ تک بجلی کی تاریں زیر زمین منتقل کرنے کے منصوبے کی فزیبلٹی اور ڈیزائن مکمل ہو چکے ہیں۔ گورنر نے شہر بھر میں بجلی کی تاریں زیر زمین منتقل کرنے کے لیے کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے بجلی چوری کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
اجلاس میں پشاور کے ٹریفک مسائل، پارکنگ پلازوں اور ٹریفک کے دباؤ والے مقامات پر درپیش مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ دلہ زاک روڈ، چارسدہ روڈ اور سرکلر روڈ پر سینٹر میڈین کی تعمیر کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 2016 کے بعد متعلقہ قانون سازی نہ ہونے کے باعث رکشوں اور چنگ چی رکشوں کی رجسٹریشن نہیں ہو سکی۔ اجلاس میں ای چالان سسٹم کے آغاز اور ریگی ماڈل ٹاؤن سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے یونیورسٹی روڈ کی دوبارہ کارپٹنگ ترجیحی بنیادوں پر کرنے، کوہاٹ روڈ پر انڈر پاس کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی تیار کرنے اور مجوزہ انڈر پاسز کے منصوبوں پر ٹریفک پولیس سے مشاورت کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے متعلقہ محکمے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیں۔
انہوں نے چنگ چی رکشوں اور رکشوں کی رجسٹریشن کے لیے فوری قانون سازی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے جہاں قانون سازی ضروری ہو، وہاں بلا تاخیر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائی، قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور شہریوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
گورنر نے پشاور کی کینال روڈز کو لاہور کی طرز پر جدید لائٹنگ اور آرائشی اقدامات کے ذریعے خوبصورت بنانے، سیاحوں کی آمدورفت والے مقامات کی تزئین و آرائش اور بنیادی شہری سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بعد خالی ہونے والی اراضی کو خوبصورت بنانے کے ساتھ عوام کے لیے پبلک اسپیسز میں تبدیل کیا جائے اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔